چندرا بابو نائیڈو کو 30 نومبر کو گرفتار نہ کرنےسپریم کورٹ کی ہدایت

   

حیدرآباد ۔9۔نومبر (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے صدر تلگو دیشم این چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے فائبر نیٹ اسکام میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست کی آج سماعت کی۔ سپریم کورٹ کے جسٹس انیرودھ بوس اور جسٹس بی ایم ترویدی پر مشتمل بنچ نے آئندہ سماعت 30 نومبر کو مقرر کی ہے۔ چندرا بابو نائیڈو کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت نے سیاسی انتقامی کارروائی کے تحت مقدمات درج کئے ہیں ، لہذا ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے۔ سپریم کورٹ نے سی آئی ڈی کو ہدایت دی کہ 30 نومبر تک چندرا بابو نائیڈو کو گرفتار نہ کیا جائے۔ ضمانت قبل از گرفتاری کے بارے میں فیصلہ تک گرفتار نہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اسی دوران اسکل ڈیولپمنٹ اسکام میں ضمانت سے متعلق درخواست پر سپریم کورٹ دیپاولی کی تعطیلات کے بعد فیصلہ سنائے گا۔ چندرا بابو نائیڈو کے خلاف مقدمہ میں سیکشن 17-A کے بیجا استعمال کی شکایت کرتے ہوئے مقدمہ کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کی گئی۔ اس مقدمہ میں ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت پر چندرا بابو نائیڈو کو رہا کیا گیا ۔ چندرا بابو نائیڈو کے وکیل سدھارت لوترا نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ کی سماعت تک گرفتار نہ کرنے کا تیقن دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں 23 نومبر کے بعد فیصلہ سنانے سے اتفاق کیا ۔