چین میں تمام ایونٹس معطل

   

سینٹ پیٹرزبرگ (امریکہ)۔خواتین کی ٹینس اسوسی ایشن (ڈبلیو ٹی اے) نے ہانگ کانگ سمیت چین میں ہونے والے تمام ڈبلیو ٹی اے ٹورنمنٹس کو فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جب تک کہ ملک ایک سابق سینئر سیاستدان کے خلاف ڈبلز کھلاڑی پینگ شوئی کے ذریعے عائدجنسی زیادتی کے الزام کی مکمل، منصفانہ اور شفاف انداز میں تحقیقات نہیں کرتا۔چین کی سب سے زیادہ پہچانے جانے والے ایتھلیٹس میں سے 35 سالہ پینگ شوائی ایک ہے اور انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں سابق نائب وزیر اعظم ڑانگ گاولی پر جنسی تعلقات کے لیے مجبور کرنے کا الزام لگائے۔ اس پوسٹ کو چینی حکام نے سوشل میڈیا سے ہٹا دیا ہے۔ ڈبلیو ٹی اے انتظامیہ اور دیگر کھلاڑی پینگ شوائی کی مکمل حمایت میں ہیں جب سے سوشل میڈیا پوسٹ کے اسکرین شاٹس ٹویٹر پر شائع کیے گئے ہیں اور ڈبلیو ٹی اے نے چینی حکومت سے باقاعدہ تصدیقی ثبوت کا مطالبہ کیا ہے کہ پینگ شوائی کو مکمل آزادی ، حفاظت اور سنسرشپ فراہم کرنے کے علاوہ کھلاڑی پر کسی قسم کا کوئی جبر نہ ہو ہے اور کسی قسم کی دھمکی نہ دی گئی ہو۔ چینی حکام نے ایک ریسٹورنٹ میں کھلاڑی کی ویڈیوز جاری کی ہے اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی ) کے سینئر حکام کے ساتھ ویڈیو کال کا بھی انتظام کیا ہے، لیکن ڈبلیو ٹی اے اس سے مطمئن نہیں ہے اور چین میں ہونے والے اپنے تمام ٹورنمنٹس کو معطل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ڈبلیو ٹی اے کے چیئرمین اور سی ای او، سٹیو سائمن نے کہاڈبلیو ٹی اے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی مکمل حمایت کے ساتھ، میں ہانگ کانگ سمیت چین میں ہونے والے تمام ڈبلیو ٹی اے ٹورنمنٹس کو فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کر رہا ہوں۔ سائمن نے ایک بیان میں کہا موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ، میں ان خطرات کے بارے میں بھی بہت فکر مند ہوں جن کا سامنا ہمارے تمام کھلاڑیوں اور عملے کو ہوسکتا ہے اگر ہم 2022 میں چین میں ایونٹس منعقد کریں گے۔یاد رہے کہ ڈبلیو ٹی اے چین اور ہانگ کانگ میں سالانہ تقریباً 11 بڑے ٹورنمنٹ منعقد کرتا ہے اور ان مقابلوں کی معطلی کا مطلب خواتین کی ٹینس کے لیے بہت بڑا نقصان ہے۔