چین میں میڈیکل تعلیم کے خواہشمندوں کو حکومت کا انتباہ

   

نئی دہلی : ہندوستان نے چین میں ڈاکٹر کی تعلیم یعنی میڈیکل تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلباء کیلئے ایک تفصیلی ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں انہیں چین میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد درپیش کئی مسائل کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔ کونسلنگ میں طلباء کو امتحان میں پاس ہونے کی کم شرح، سرکاری زبان پوتونگھوا سیکھنے کی مجبوری اور ہندوستان میں بطور ڈاکٹر پریکٹس کرنے کے سخت قوانین کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ یہ ایڈوائزری ایک ایسے وقت میں جاری کی گئی ہے جب چین کے طبی اداروں میں زیر تعلیم بہت سے ہندوستانی طلباء بیجنگ کے کووڈ ویزا پابندی کی وجہ سے دو سال سے زیادہ عرصے سے گھر بیٹھے ہیں۔ حکومت کے اندازوں کے مطابق، اس وقت چین کی مختلف یونیورسٹیوں میں 23,000 سے زیادہ ہندوستانی طلباء نے داخلہ لیا ہوا ہے جن میں سے ایک بڑی تعداد میڈیکل طلبہ ہے۔ کووڈ ویزا پابندیوں کے دو سال سے زیادہ عر صہ گذرنے کے بعد، چین نے حال ہی میں کچھ منتخب طلباء کو واپس آنے کے لیے ویزے جاری کیے تھے لیکن ان میں سے زیادہ تر طلباء واپس آنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں کیونکہ سیدھی پروازیں دستیاب نہیں ہیں۔ اس درمیان چینی میڈیکل کالجوں نے ہندوستان اور بیرون ملک سے نئے طلباء کو داخلہ دینا شروع کر دیا ہے۔اس تناظر میں بیجنگ میں ہندوستانی سفارت خانے نے جمعرات کو ان طلباء کیلئے ایک تفصیلی ایڈوائزری جاری کی ہے ۔ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں پریکٹس کے لیے 2015 اور 2021 کے درمیان، صرف 16 فیصد طلبہ ہی امتحان پاس کر سکے۔