تائیپی : تائیوان کی صدر سائی انگ وین وسطی امریکی ممالک کے دورہ کے دوران ہی نیویارک پہنچ گئی ہیں۔ ادھر چین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگر انہوں نے اعلیٰ امریکی حکام سے ملاقات کی، تو وہ جوابی اقدام کرے گا۔تائیوان کی صدر سائی انگ وین وسطی امریکہ کے دورے پر جا رہی تھیں کہ اچانک 29 مارچ کے روز امریکی شہر نیویارک پہنچ گئیں۔ ان کا دورہ امریکہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب چین نے دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر کیون میکارتھی سے ملاقات کی، تو اس کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے گی۔سائی انگ وسطی امریکہ کے دورے کے دوران گوئٹے مالا اور بیلیز کے رہنماؤں سے ملاقات کریں گی، جو تائیوان کو سفارتی طور پر تسلیم کرنے والے چند ممالک میں سے ایک ہیں۔اطلاعات کے مطابق وہ سنیچر تک نیویارک میں قیام کریں گی اور وسطی امریکہ سے واپسی پر لاس اینجلس بھی جائیں گی۔ گرچہ سرکاری طور پر اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی ہے تاہم کیلیفورنیا میں کیون میکارتھی سے ان کی ملاقات ہونے کی توقع ہے۔اسی دوران گھریلو سطح پر صدر سائی انگ کے سب سے نمایاں مخالف سیاسی رہنما تائیوان کے سابق صدر ماینگ جیو نے چہارشنبہ سے چین کا دورہ شروع کیا ہے۔ تائیوان کے کسی بھی سابق صدر کا چین کا یہ پہلا دورہ ہے۔