’’میرا سیاسی کیرئیر چاہے برباد ہوجائے مگر جھوٹ نہیں بولوں گا ۔ ہندوستانی کی حیثیت سے قوم کا مفاد میرے لئے اولین ترجیح ‘‘
نئی دہلی : کانگریس کے سینئر لیڈر راہول گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کا نام لئے بغیر ان کو نشانہ بناتے ہوئے کہ چینی فوجیوں کی دراندازی کے ثبوت ہونے کے باوجود ہندوستانی علاقے میں ان کی موجودگی سے انکار کیا جارہا ہے اور ایسا کرنے والے کبھی محب وطن نہیں ہوسکتے ۔ راہول نے پیر کویہاں ایک بیان میں کہا کہ ’’مجھے لگتا ہے کہ جھوٹ بولنے والے اور یہ کہنے والے لوگ کہ چین نے ہندوستانی علاقے میں دراندازی نہیں کی ہے ، ایسے لوگ محب وطن نہیں ہیں۔میں کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا اور میرے خیال میں جو لوگ ہندوستان میں چینی دراندازی کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں وہ محب وطن نہیں ہیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی شہری ہونے کے ناطے ان کی ترجیح ملک اور ملک کے باشندے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ چینی فوجی دستے ہمارے علاقے میں دراندازی کیے ہوئے ہیں۔ یہ میرے لیے انتہائی پریشان کن ہے ۔ یہ دیکھ کر میرا خون کھول رہا ہے کہ کوئی ملک کیسے ہندوستانی سرزمین میں دراندازی کرسکتا ہے ۔راہول نے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں خاموش رہوں اور اپنے ہم وطنوں سے جھوٹ بولوں؟ جبکہ مجھے پورا یقین ہے ۔ میں نے سیٹلائٹ کی تصاویر دیکھی ہیں اور میں نے سابق فوجی اہلکاروں سے اس بارے میں بات کی ہے ۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں چینی جارحیت پر جھوٹ بولوں، تو میں ایسا ہرگز نہیں کرسکتا چاہے اس سے میرے سیاسی کیریئر کو نقصان پہنچے۔ راہول 15 جون کو لداخ میں چین کے ساتھ فوجی جھڑپ کے بعد سے مرکزی حکومت کو مسلسل نشانہ بناتے رہے ہیں ۔ اُس جھڑپ میں 20 ہندوستانی فوجی شہید ہوئے۔ اُنھوں نے آج اپنے تیور جارحانہ کئے اور کہاکہ اُنھیں اپنے سیاسی کیرئیر کی فکر نہیں لیکن وہ اسے بچانے کیلئے جھوٹ نہیں بولیں گے ۔ راہول نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کیا جس میں اُنھوں نے سرحدی مسئلہ پر تبصرہ کیا ہے ۔ 50 سالہ سابق صدر کانگریس نے ویڈیو پیام میں کہا کہ برسراقتدار بی جے پی حقائق چھپانے میں کوشاں ہیں لیکن سیٹلائیٹ تصاویر جیسے ذرائع سے دنیا بھر کو حقیقت معلوم ہورہی ہے۔ بی جے پی نے جوابی تنقید میں کہاکہ آپ (راہول ) کا سیاسی کیرئیر شروع ہونے کے فوری بعد ختم ہوگیا ۔ ملک کے عوام آپ میں کوئی لیڈر نہیں دیکھتے۔ اُس کا ثبوت 2019 ء میں مل گیا اور اب آپ کانگریس پارٹی کا مستقبل ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔ بی جے پی ایم پی اور قومی ترجمان جی وی ایل نرسمہا راؤ نے کہاکہ راہول گاندھی کی طرف سے بار بار لفظی حملوں سے پتہ چلتا ہے کہ اُن کی پارٹی کانگریس اب ٹوئیٹس کی پارٹی ہوگئی ہے ۔ کیرالا کے حلقے وائنارڈ کے نمائندے رکن لوک سبھا راہول نے کہا کہ سچائی کو چھپانے کا عمل اُنھیں قوم دشمن بنارہا ہے ۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ اپنی سیاست میں سچائی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں ۔ اس کیلئے اُنھوں نے ابھی تک کئی قربانیاں دی ہیں اور آگے ضرورت پڑھنے پر بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ اُنھوں نے تنقید کی کہ چینی جارحیت کے بعد مرکزی حکومت کی طرف سے حقائق کی پردہ پوشی کی گئی ۔ مرکزی وزیر پرکاش جاؤڈیکر نے میڈیا کو جو بریفنگ دی وہ حقائق سے بعید تھی ۔ تاہم گزشتہ ماہ حکومت نے اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے اس طرح کے لفظی حملوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیراعظم مودی کے کل جماعتی اجلاس میں چین کے بارے میں تبصرے کو شرپسندانہ طورپر غلط تشریح کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے ۔ بی جے پی نے کہا تھا کہ ایسے وقت جب سرحدوں پر ہمارے بہادر سپاہی حفاظت کا کام کررہے ہیں غیرضروری تنازعہ پیدا کیا جارہاہے جس سے اُن کا حوصلہ پست ہوگا ۔