چیوڑلہ پارلیمانی انتخابات میں سہ رخی سخت مقابلہ

   

شمس آباد 27 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : چیوڑلہ پارلیمانی انتخابات سے قبل ہی تمام سیاسی پارٹیاں سرگرم دکھائی دے رہی ہے ۔ امید کی جارہی ہے کہ اپریل میں عام انتخابات ہوں گے ۔ چیوڑلہ پارلیمانی حلقہ سال 2009 میں علحدہ کیا گیا تھا اور 2009 میں جئے پال ریڈی سابق مرکزی وزیر نے پہلی مرتبہ اس حلقہ سے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی تھی ۔ 2014 میں کنڈہ ویشویشور ریڈی نے بی آر ایس امیدوار کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی اور 2018 میں کانگریس میں شمولیت اختیار کی ۔ 2019 انتخابات میں بی آر ایس امیدوار ڈاکٹر رنجیت ریڈی نے کامیابی حاصل کی ۔ تلنگانہ ریاست قائم ہونے کے بعد بی آر ایس نے دو مرتبہ حکومت قائم کی تھی 2023 انتخابات میں کانگریس نے اقتدار حاصل کیا ۔ چیوڑلہ پارلیمانی حلقہ کے تحت 7 ارکان اسمبلی آتے ہیں ۔ مہیشورم بی آر ایس ، راجندر نگر بی آر ایس ، شیرلنگم پلی بی آر ایس چیوڑلہ بی آر ایس ، پرگی کانگریس ، وقار آباد کانگریس اور تانڈور کانگریس شامل ہیں ۔ 7 ارکان اسمبلی میں چار بی آر ایس اور تین کانگریس ارکان اسمبلی ہیں ۔ 2019 میں بی آر ایس امیدوار ڈاکٹر رنجیت ریڈی نے 14,317 ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی ۔ 2024 انتخابات میں تمام قائدین کی نظریں چیوڑلہ پر مرکوز ہیں ۔ کانگریس سے پٹنم سنیتا مہیندر ریڈی ( وقار آباد ضلع پریشد چیرپرسن ) ، بی آر ایس سے موجودہ رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر رنجیت ریڈی ، بی جے پی سے کنڈہ ویشویشور ریڈی ( سابق رکن پارلیمنٹ ) ، امیدواروں کے طور پر میدان میں اتر سکتے ہیں ۔ بی آر ایس کو موجودہ رکن پارلیمنٹ کا فائدہ حاصل ہوسکتا ہے جب کہ بی جے پی کو سابق رکن پارلیمنٹ اور سنکلپ یاترا سے ووٹ بینک میں اضافہ ہوگا اور کانگریس امیدوار سنیتا مہیندر ریڈی موجودہ وقار آباد ضلع پریشد چیرپرسن اور سابق رنگاریڈی ضلع پریشد چیرپرسن رہ چکی ہیں ۔ اور انہیں رنگاریڈی اور وقار آباد میں کافی مقبولیت ہے ۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی پارلیمانی انتخابات میں چیوڑلہ انچارج بھی ہیں ۔ جس سے کانگریس امیدوار کو کافی فائدہ ہوگا اور چیوڑلہ پارلیمانی حلقہ پر دوبارہ کانگریس کامیابی حاصل کرسکتی ہے ۔۔