شام 5 تا رات 10 بجے برقی کے کم استعمال کا مشورہ، نئے بورویلز کی اجازت نہ دینے کی تجویز،حیدرآباد کی صورتحال پر جیش رنجن کا اعلیٰ سطحی اجلاس
حیدرآباد۔16 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) اسپیشل چیف سکریٹری جیشن رنجن نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ریاست میں ال نینو کے اثرات پر قابو پانے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انہوں نے پانی بالخصوص زیر زمین پانی کے تحفظ اور برقی کی موثر سربراہی کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ جیش رنجن نے حیدرآباد میں موسمی تبدیلی کے نتیجہ میں پیدا شدہ صورتحال پر اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا جس میں ضلع کلکٹر ڈاکٹر پرینکا اعلیٰ ، مینجنگ ڈائرکٹر حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے اشوک ریڈی ، تلنگانہ سدرن پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی کے مینجنگ ڈائرکٹر جتیش پاٹل ، کمشنر جی ایچ ایم سی آر وی کرنن اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ جیش رنجن نے بتایا کہ حکومت نے ال نینو کی صورتحال سے نمٹنے 10 متحدہ اضلاع کے لئے 10 سینئر عہدیداروں کا تقرر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد خالص شہری علاقہ ہونے کے سبب پینے کے پانی کی ضرورت کی تکمیل پر توجہ دی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں برقی طلب کے مطابق سربراہی پر عہدیدار توجہ دیں تاکہ آنے والے چند ماہ میں برقی اور پانی کے بحران سے بچا جاسکے۔ انہوں نے عوام میں پانی کے تحفظ اور احتیاط سے استعمال کیلئے شعور بیداری مہم کی تجویز پیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ احتیاط اور کم استعمال سے کم از کم 20 فیصد پانی کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے غیر قانونی آبی پائپ لائینس و موٹرس کے استعمال کو روکنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ غیر مجاز طور پر پانی کے ذخائر کے استعمال کے خلاف کارروائی کیلئے حیڈرا کی خدمات حاصل کی جاسکتی ہے۔ جیش رنجن نے بتایا کہ موسیٰ ندی کے سیوریج واٹر کی صفائی کیلئے اقدامات کئے جائیں گے اور یہ پانی صنعتی اغراض کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس قائم کئے جائیں گے ۔ اشوک ریڈی نے بتایا کہ بارش کی کمی کے نتیجہ میں واٹر ٹینکرس کی بکنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ حیدرآباد میں زیر زمین پانی کی سطح بھی کم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں زیر زمین پانی کی سطح میں گزشتہ سال کے مقابلہ مزید پانچ میٹر کی گراوٹ آئی ہے۔ جاریہ سال مانجرا اور سنگور ذخائر آب میں پانی کا بہاؤ کم ہوا ہے اور موجودہ ذخائر ڈسمبر تک کیلئے کافی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ متبادل ذرائع سے پانی کی سربراہی کی تیاری کی جا رہی ہے۔ گوداوری پانی کی سربراہی اسکیم کے علاوہ کرشنا سے پانی کے حصول کا منصوبہ ہے۔ حمایت ساگر و عثمان ساگر میں اضافی فلٹر بیڈس کے قیام کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیری سرگرمیوں کیلئے درکار 90 فیصد پانی قریبی علاقوں میں دستیاب ٹریٹمنٹ پلانٹ سے سربراہ کیا جائے گا۔ ٹینکرس کی بکنگ کیلئے موبائیل ایپ متعارف کیا گیا ہے۔ جتیش پاٹل نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پانی کے ساتھ برقی کا بھی تحفظ کریں۔ ریاست میں برقی کی طلب ایک دن میں 20018 میگا واٹ ہوچکی ہے۔ مارچ اور اپریل میں موسم گرماکے دوران برقی طلب میں مزید اضافہ کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر کو ایرکنڈیشنڈ کا درجہ حرارت 25 ڈگری رکھ کر برقی بچت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مکانات کی چھت پر سولار پاور یونٹس کے قیام کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے عوام سے ا پیل کی کہ شام 5 بجے تا رات 10 بجے برقی کے استعمال کو کم کریں۔ برقی عہدیدار سربراہی کے مسائل کے حل کیلئے 24 گھنٹے دستیاب ہیں اور 1912 نمبر کے ساتھ کنٹرول روم قائم کیا گیا ۔ محکمہ موسمیات کی سائنسداں شراونی نے بتایا کہ نومبر میں طوفان کے زیر اثر تلنگانہ میں بارش کا امکان ہے۔ انہوں نے درجہ حرارت میں اضافہ کی پیش قیاسی کی۔ شہر کے تین منڈلوں میں معمول کے مطابق بارش ہوئی ۔ 13 منڈلوں میں معمول سے کم بارش ہوئی۔ ضلع کلکٹر پرینکا آلا نے کہا کہ 16 منڈلوں میں صورتحال پر نظر رکھنے اسپیشل آفیسرس کا تقرر کیا جائے گا۔ انہوں نے گراؤنڈ واٹر محکمہ کو ہدایت دی کہ زیر زمین پانی کے بیجا استعمال کو روکنے نئے بور ویلز کی اجازت نہ دیں۔ صورتحال کا جائزہ لینے 15 دن بعد دوبارہ اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔1/k