ڈسپوزل ایٹم بنانے کا کارخانہ قائم کرنے والے دو دوست عنایت اور عرفان

   

سری نگر: وادی کشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوان سرکاری نوکریوں کے انتظار میں وقت ضائع کئے بغیر مختلف النوع تجارتی یونٹ قائم کرکے نہ صرف اپنی روزی روٹی کی سبیل کر رہے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی روزگار فراہم کر رہے ہیں۔وسطی ضلع بڈگام کے چرار شریف علاقے سے تعلق رکھنے والے دو تعلیم یافتہ دوستوں نے اپنی ڈگریاں مکمل کرنے کے فوراً بعد اپنے ذاتی خرچے پر ایک تجارتی یونٹ قائم کیا ہے جس سے وہ نہ صرف اپنی روزی روٹی کما رہے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی روزگار فراہم کر رہے ہیں۔عنایت نبی بابا اور عرفان نذیر بابا نے اپنے ہی علاقے میں ڈسپوزل ایٹم جیسے ٹیشو پیپر، گلاس وغیرہ بنانے کا کارخانہ قائم کیا ہے جس سے ہونے والی کمائی سے دونوں دوست مطمئن ہیں۔دونوں دوستوں نے مشترکہ طور پر بیس لاکھ روپئے کی سرمایہ کاری کرکے یہ کارخانہ قائم کیا ہے۔