ڈی اروند کی زبان کاٹ دینے جیون ریڈی کا انتباہ

   

کے ٹی آر نے بحیثیت وزیر 96 ہزار کمپنیاں قائم کر کے 16 لاکھ افراد کو ملازمت فراہم کی
حیدرآباد ۔ 31 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے رکن اسمبلی پی یو سی کے صدر نشین جیون ریڈی نے کے ٹی آر کے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کرنے پر زبان کاٹ دینے کا بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کو انتباہ دیا ۔ بی آر ایس لیجسلیچر پارٹی آفس میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جیون ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس حکومت کی ترقی بالخصوص ضلع نظام آباد کی ترقی سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ڈی اروند بوکھلاہٹ کا شکار ہیں ۔ انہیں اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں شکست سے دوچار ہوجائیں گے ۔ بی جے پی کارکنوں کے پست حوصلوں میں نیا جوش پیدا کرنے کے لیے تلنگانہ حکومت ، چیف منسٹر کے سی آر ، بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر اور بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا کے خلاف جھوٹ پھیلا رہے ہیں اور ساتھ ہی ان کے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کررہے ہیں ۔ جس کو بی آر ایس کے کارکن ہرگز برداشت نہیں کریں گے ۔ جیون ریڈی نے کہا کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینا جانتے ہیں ۔ مگر ہماری تہذیب و تربیت اس کی اجازت نہیں دے رہی ہے ۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے ڈاؤس کا دورہ کرتے ہوئے کیا حاصل کیا ہے ۔ کے ٹی آر نے استفادہ کیا ہے ۔ کے ٹی آر کے دورے سے تلنگانہ میں 21 ہزار کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ہورہی ہے ۔ بحیثیت وزیر آئی ٹی و صنعت کے ٹی آر نے 96 ہزار کمپنیاں قائم کرنے اور 16 لاکھ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے ۔ اس طرح کے حقائق فرضی ڈگری رکھنے والے ڈی اروند کو کیسے معلوم ہوتی ہے۔ انہوں نے نظام آباد کی ترقی پر بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کو کھلے عام مباحث کا چیلنج کیا ۔۔ ن