’کالا ہرن‘ تنازعہ میں سلمان کو عدالتی راحت نہ ملی

   

نئی دہلی ، 21 جون (ایجنسیز) بالی ووڈ سوپر اسٹار سلمان خان کو ان کی زندگی سے مشابہت رکھنے والی متنازع فلم ’کالا ہرن: دی بیاٹل فار لیگیسی‘ کے خلاف دائر مقدمے میں فوری کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ دہلی ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت یکم ؍جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے عبوری راحت کی درخواست منظور کرنے سے انکار کر دیا۔ جسٹس مدھو جین کی بنچ نے سماعت کے دوران سلمان خان کی قانونی ٹیم کو ہدایت دی کہ وہ مقدمے سے متعلق تمام دستاویزات اور ریکارڈ فلم سازوں کے وکلاء کو فراہم کریں تاکہ وہ مکمل تیاری کے ساتھ اپنا موقف عدالت کے سامنے رکھ سکیں۔ سلمان خان نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ فلم کی نمائش روکی جائے کیونکہ ان کے مطابق اس میں 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس اور گینگسٹر لارنس بشنوئی کے ساتھ ان کے مبینہ تنازع کو ان کی اجازت کے بغیر فلمایا گیا ہے۔ عدالت میں سلمان خان کے وکیل سندیپ سیٹھی نے موقف اختیار کیا کہ فلم بنیادی طور پر ان کے مؤکل کی زندگی سے متاثر ہو کر بنائی جا رہی ہے، حالانکہ اس حوالے سے نہ تو ان سے اجازت لی گئی اور نہ ہی انہیں اس کا کوئی قانونی اختیار دیا گیا۔ فلم ساز سلمان خان کی شہرت، شناخت اور عوامی مقبولیت کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری جانب فلم سازوں کے وکلاء نے فلم کی نمائش فوری طور پر روکنے کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انہیں مقدمے کی مکمل دستاویزات موصول نہیں ہوئیں، اس لیے وہ ابھی جامع جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ فلم کے موضوع کے باعث انہیں دھمکیوں اور شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔