کالیشورم کمیشن کی تحقیقات سے بچنے کے سی آر اور ایٹالہ کی بات چیت

   

مہیش کمار گوڑ کا الزام، فارم ہاؤز میں ہریش راؤ سے ملاقات، بی آر ایس اور بی جے پی میں مفاہمت آشکار
حیدرآباد 30 مئی (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ نے الزام عائد کیاکہ کالیشورم پراجکٹ میں بدعنوانیوں کے الزامات سے بچاؤ کے لئے بی جے پی رکن پارلیمنٹ ایٹالہ راجندر نے بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر کے ساتھ ملکر مساعی شروع کردی ہے۔ کالیشورم کمیشن نے کے سی آر، ہریش راؤ اور ایٹالہ راجندر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کمیشن کے روبرو پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ راجندر واضح کریں کہ بی جے پی میں ہیں یا بی آر ایس میں۔ کالیشورم اسکام سے بچنے راجندر نے کے سی آر کے ساتھ ملکر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مہیش کمار گوڑ نے گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انکشاف کیاکہ شاہ میر پیٹ میں واقع ایک فارم ہاؤز میں ایٹالہ راجندر اور ہریش راؤ کی ملاقات ہوئی اور دونوں نے کے سی آر سے فون پر بات چیت کی۔ مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ کویتا کے بیانات سے کانگریس پارٹی کا موقف درست ثابت ہوا ہے کہ تلنگانہ میں بی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ مفاہمت ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں خفیہ مفاہمت بے نقاب ہوچکی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کویتا آج اِس بارے میں انکشاف کررہی ہیں جبکہ کانگریس کو پہلے ہی سے اِس بات کا شبہ تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ بنڈی سنجے کو بی جے پی کی ریاستی صدارت سے ہٹانے میں بی آر ایس کا اہم رول ہے کیوں کہ وہ بی آر ایس سے مفاہمت کی مخالفت کررہے تھے۔ مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ رکن اسمبلی راجہ سنگھ بھی بی جے پی قائدین کی جانب سے پیش کردہ پیاکیج کا انکشاف کررہے ہیں۔ اِس سلسلہ میں بی جے پی کے سرکردہ قائدین کو جواب دینا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ آپریشن سندور کے بارے میں عوام میں کئی شبہات پائے جاتے ہیں جس کی وضاحت مرکزی حکومت کو کرنی چاہئے۔ بی آر ایس کو ڈوبتی کشتی قرار دیتے ہوئے مہیش کمار گوڑ نے کہاکہ دولت اور اثاثہ جات کے مسئلہ پر کے سی آر خاندان میں لڑائی عروج پر ہے۔ لوک سبھا چناؤ میں بی جے پی کو 8 نشستوں پر کامیابی میں بی آر ایس کا اہم رول ہے۔ اُنھوں نے کشن ریڈی کو چیلنج کیا کہ وہ راجہ سنگھ کے بیان پر جواب دیں۔ کالیشورم کمیشن سے نوٹس کی اجرائی کے فوری بعد کے سی آر اور راجندر میں دوستی بحال ہوچکی ہے اور دونوں تحقیقات سے بچنے کے لئے مشترکہ طور پر حکمت عملی تیار کررہے ہیں۔ صدر پردیش کانگریس نے کہاکہ ٹرمپ کے دباؤ کے تحت جنگ بندی کا اعلان افسوسناک ہے۔ راہول گاندھی کے اُٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے سے قاصر بی جے پی اُنھیں پاکستان کا ہمدرد قرار دے رہی ہے۔ اندرا گاندھی کے دور میں فوج نے کئی سرجیکل اسٹرائیک کئے اور کانگریس کو یہ اعزاز ہے کہ اُس نے پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا۔1