کاکروچ سڑکوں پر … مودی حکومت کی نیند حرام
دہلی کے فرشتے … آگ سے بچانے والے مسلم نوجوان
رشیدالدین
کاکروچ آخر کار سڑکوں پر آگئے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت نے سوئے ہوئے نوجوانوں کو جگادیا، جس سے نریندر مودی حکومت کی نیند اُڑ چکی ہے۔ جن نوجوانوں کو جسٹس سوریا کانت نے ناکارہ ، نااہل اور نکمے کہا تھا، وہ آج اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کے میدان میں ٹوٹ پڑے ہیں۔ نوجوانوں بالخصوص Gen Z کو جسٹس سوریا کانت کا شکریہ ادار کرنا چاہئے جنہوں نے یہ احساس دلایا کہ یہ وقت اپنے تابناک مستقبل کے لئے حکومتوں کی مہربانی اور احسان کے انتظار کا نہیں بلکہ حقوق کو حاصل کرنے کا ہے کیونکہ مانگنے سے حق نہیں ملتا بلکہ اسے چھیننا پڑتا ہے۔ جسٹس سوریا کانت نے 15 مئی کو ملک کے نوجوانوں کو کاکروچ اور دیمک سے تشبیہہ دی اور 16 مئی کو کاکروچ جنتا پارٹی کا سوشیل میڈیا پر قیام عمل میں آیا۔ محض تین دن میں فالورس کی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کرگئی اور فالورس کے معاملہ میں بی جے پی پیچھے رہ گئی۔ سوشیل میڈیا پر پابندیوں کے باوجود کاکروچ جنتا پارٹی نے ہار نہیں مانی اور پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے ہندوستان واپس آکر جدوجہد کی قیادت کا اعلان کردیا۔ کاکروچ جیسے ہی سرگرم ہوئے، ایک طرف مودی۔امیت شاہ کی نیند حرام ہوگئی تو دوسری اپوزیشن پارٹیوں کو مستقبل خطرہ میں دکھائی دینے لگا۔ ظاہر ہے کہ جب کسی ملک کا نوجوان اٹھ کھڑا ہو تو حکومتوں کی تبدیلی تک چین سے نہیں بیٹھتا۔ حالیہ عرصہ میں سنگاپور ، سری لنکا ، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک میں Gen Z نے حکومتوں کو اکھاڑ پھینکا۔ ہندوستان میں آزادی کے بعد اگرچہ کئی تحریکات اٹھیں جن میں جئے پرکاش نارائن، منڈل کمیشن اور انا ہزارے کی تحریکات کی کامیابی میں نوجوانوں کا اہم رول رہا ۔ گزشتہ 25 تا 30 برسوں میں سیاسی پارٹیوں اور حکومتوں نے Gen Z کو صرف ووٹ بینک میں تبدیل کرتے ہوئے حقوق کے لئے جدوجہد کے جذبہ کو سرد کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان ہر ناانصافی اور ظلم کو برداشت کرنے کے عادی بن گئے۔ مودی حکومت کے 12 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے جب Gen Z کاکروچ کی شکل میں میدان میں آچکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق کاکروچ ملک میں تبدیلی کی سمت رواں دواں ہیں اور روایتی سیاسی پارٹیوں کے مقابلہ نوجوانوں کے اس گروپ کو عوام کی تائید زیادہ مل سکتی ہے۔ مودی۔امیت شاہ جوڑی کا کاکروچ جنتا پارٹی کے ساتھ کیا سلوک رہے گا اور مخالف حکومت آوازوں کو کس طرح خاموش کیا جائے گا ، اس بارے میں مبصرین کے اندازے اور اندیشے مختلف ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر واقعی کاکروچ میدان عمل میں آجائیں تو ملک میں نیا سیاسی انقلاب برپا ہوگا۔ جسٹس سوریا کانت نے پتہ نہیں کیا سوچ کر بیروزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ دیا لیکن سائنسی اعتبار سے کاکروچ کی خصوصیات میں مزاحمت کی اہم خوبی ہے۔ بمباری حتیٰ کہ نیوکلیئر حملے میں بھی کاکروچ کے محفوظ رہنے کی مثالیں دیکھی گئیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے جن نظریات پر عمل آوری کا عہد کیا ہے ، ان میں سیکولرازم پر اٹوٹ ایقان سے عوام میں امید جاگی ہے کہ ملک میں دستور ، قانون اور جمہوریت کا تحفظ ہوگا۔ کاکروچ پارٹی نے عوام سے جو وعدے کئے ، ان میں کوئی بھی چیف جسٹس ریٹائرمنٹ کے بعد راجیہ سبھا کے لئے نامزد نہیں ہوں گے۔ ایک بھی حقیقی رائے دہندے کا نام حذف کرنے پر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف دیش دروہی کا مقدمہ چلایاجائے گا۔ اڈانی اور امبانی کے ٹی وی چیانلس کے لائسنس منسوخ کردیئے جائیں گے۔ پارٹی تبدیل کرنے پر کوئی ایم پی اور ایم ایل اے تاحیات الیکشن نہیں لڑ پائے گا۔ خواتین کو 50 فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں گے ۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے بارے میں کئی اندیشے ظاہر کرتے ہوئے انہیں عوام کی نظر میں مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی لیکن پارٹی کے قومی ترجمانوں کے اعلان کے بعد پتہ چلا کہ ترجمان سابق میں عام آدمی پارٹی سے وابستہ رہ چکے ہیں۔ کاکروچ جنتا پارٹی صرف عوامی تحریک تک برقرار رہے گی یا انتخابی سیاست میں حصہ لے کر دوسری عام آدمی پارٹی بن کر ابھرے گی، یہ تو آنے والا وقت بنائے گا۔ تاہم عوامی مسائل پر جدوجہد کے ذریعہ بھی انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے کی وطن واپسی اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعمال کے مطالبہ کے ساتھ ہی دہلی کے ایوان اقتدار میں ہلچل پیدا ہوگئی۔ مودی اور امیت شاہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ وزیراعظم کے دفتر اور وزارت داخلہ میں فائلوں کو ٹٹولنے کا کام شروع ہوا تاکہ ملک بھر میں بیروزگار نوجوانوں کی حقیقی تعداد کا پتہ چلایا جاسکے۔ کاکروچ قائدین کے خلاف سی بی آئی ، ای ڈی اور انکم ٹیکس کے استعمال کی حکمت عملی طئے کی جارہی ہے جوکہ مخالف مودی حکومت اور بی جے پی کے اہم ہتھیار ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کاکروچ پارٹی کو ملک اور بیرون ملک سے فنڈنگ پر گہری نظر رکھی جارہی ہے تاکہ منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت کارروائی کی جاسکے۔ نیٹ امتحانی پرچہ کے افشاء کے ذریعہ ملک بھر کے 22 لاکھ نوجوانوں کے مستقبل سے کھلواڑ کیا گیا لیکن مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ چند عہدیداروں کے تبادلہ کے ذریعہ معاملہ کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ کاکروچ جنتا پارٹی دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی مانگ کر رہی ہے۔ کیا مودی حکومت Gen Z کے دباؤ کے آگے جھک جائے گی؟
کاکروچ جنتا پارٹی کی سرگرمیوں کے آغاز کے بعد ملک میں بیروزگار نوجوانوں سے متعلق تفصیلات کا انکشاف ہوا ہے۔ اترپردیش میں 80 لاکھ جبکہ بہار میں 45 لاکھ سے زائد تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں نے سرکاری ملازمتوں کے لئے اپنے نام درج کرائے ہیں۔ مدھیہ پردیش ، مہاراشٹرا ، آندھراپردیش ، تلنگانہ ، ٹاملناڈو اور پنجاب میں سرکاری سطح پر نام درج کرانے والے بیروزگار نوجوانوں کی تعداد تین کروڑ سے زائد بتائی گئی ہے ۔ خانگی شعبہ میں ایک کروڑ 20 لاکھ نوجوان روزگار کے منتظر ہیں۔ ایک طرف ہندوستان میں روزگار کے مواقع کم ہوچکے ہیں تو دوسری طرف تعلیم یافتہ نوجوان دیگر ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں وزارت خارجہ نے سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے ہر کسی کو چونکا دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق روس کی فوج میں 217 ہندوستانی شامل ہوچکے ہیں اور یوکرین کے خلاف لڑائی میں مورچہ پر تعینات کیا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ہر فوجی کو ماہانہ ڈھائی ہزار ڈالر یعنی ڈھائی لاکھ ہندوستانی روپئے تنخواہ دی جارہی ہے ۔ بونس کے طور پر 5 ہزار ڈالر اور جنگ میں ہلاکت کی صورت میں 1.68 لاکھ ڈالر کی امداد دی جائے گی۔ یوکرین سے لڑائی میں ابھی تک 49 ہندوستانی مارے جاچکے ہیں۔ دوسری طرف ملک میں مسلمانوں سے نفرت کے ماحول میں نئی دہلی کے مسلم نوجوانوں نے خود کو فرشتہ ثابت کیا ہے۔ دہلی کے مالویا نگر کی ایک ہوٹل میں بھیانک آتشزدگی کے بعد مقامی مسلم نوجوانوں نے کئی سیاحوں اور مقامی افراد کی جان بچائی جو آگ میں گھر چکے تھے۔ مسلم نوجوانوں نے اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر ہوٹل سے مرد ، خواتین اور بچوں کو بحفاظت باہر نکالا۔ دارالحکومت کے بعض اخبارات نے 9 مسلم نوجوانوں کی انسانی ہمدردی اور بہادری سے متعلق تفصیلی رپورٹ شائع کی لیکن افسوس کہ گودی میڈیا نے مسلم نوجوانوں کی بہادری کو نظر انداز کردیا۔ دراصل ملک بھر میں نفرتی بریگیڈ نے گودی چیانلس پر کچھ ایسا کنٹرول کرلیا ہے کہ مسلم نام پسند نہیں ۔ ارمان، اسرار خاں ، محمد شعیب ، وسیم رضا ، محمد افضل ، محمد انیس ، وقار اور مستقیم کی جگہ کوئی اور نام ہوتے تو گودی میڈیا انہیں قومی ہیروز کے طور پر پیش کرتا اور نریندر مودی اور امیت شاہ کی ستائش حاصل ہوتی۔ ایک مقامی مسلم تاجر نے اپنی دکان سے سارے میٹریس سڑک پر بچھادیئے تاکہ ہوٹل کی اوپری منزلوں سے کودنے والے افراد زندہ بچ سکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلم تاجر نے دو لاکھ روپئے مالیت کی میٹریسیس کے ذریعہ 12 قیمتی جانیں بچائیں۔ مقامی افراد اور زخمیوں کا کہنا ہے کہ اگر مسلم نوجوان بروقت مستعدی نہیں دکھاتے تو مہلوکین کی تعداد 21 سے زائد ہوتی۔ مسلم نوجوانوں نے آگ میں پھنسے ہوئے افراد کی ریل نہیں بنائی بلکہ ریئل ہیرو کی طرح آگ میں کود کر درجنوں افراد کو بچالیا۔ آگ میں پھنسے بیرونی سیاحوں نے مسلم نوجوانوںکی انسانی ہمدردی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوانوں کو سلیوٹ کرتے ہیں۔ آتشزدگی کے واقعہ اور مسلم نوجوانوں کی بہادری کو اگرچہ چند دنوں میں بھلادیا جائے گا لیکن جن کی جان بچائی گئی ، وہ زندگی بھر شکر گزار رہیں گے۔ نئی دہلی اور مرکزی حکومت کو چاہئے کہ مسلم نوجوانوں کو بہادری کے اعتراف میں ایوارڈ پیش کرے۔ کاکروچ کے سرگرم ہونے پر جوہر کانپوری نے کچھ یوں تبصرہ کیا ہے ؎
جس سیاست کو تھا غرور بہت اب وہ مجبور ہونے والی ہے
کاکروچ آگئے ہیں سڑکوں پرگندگی دور ہونے والی ہے