کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی کے مطالبہ پر جو احتجاج شروع کیا گیا تھا وہ ایسا لگتا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے پوری طرح نظر انداز کردیا گیا ہے اور حکومت کی جانب ان طلباء اور نوجوانوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے ۔ حکومت جس طرح سے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر اپوزیشن کو نظرانداز کرتے ہوئے اقتدار کے زعم میںکام کر رہی ہے اسی طرح کا رویہ طلباء اورنوجوانوں کے تعلق سے بھی اختیار کرلیا گیا ہے ۔ تین ہفتوں سے زیادہ کا وقت ہوگیا جب کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے جنترمنتر پر پرامن احتجاج شروع کیا گیا تھا ۔ اتنا وقت گذرنے کے باوجود یہ احتجاج پرامن ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ احتجاجی نوجوان اپنے مطالبات منوانا چاہتے ہیں اور تشدد سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ حالانکہ اس احتجاج کے تعلق سے بھی منفی پروپگنڈہ شروع کرنے کی ہرممکن کوشش کی گئی تھی لیکن ایسی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔ جو نوجوان اور طلباء ہیں انہوں نے انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور خاموشی کے ساتھ احتجاج کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اتنے دن گذرنے کے باوجود کوئی بیان تک جاری نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اس احتجاج کو ختم کروانے کی کوئی کوشش ہی ہوئی ہے ۔ دراصل اس احتجاج کو پوری طرح نظرا نداز کردیا گیا ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت اقتدار کے زعم میں ہٹ دھرمی والا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے اور اسے کسی کی مخالفت یا کسی کے احتحاج کی بھی پرواہ نہیں رہ گئی ہے ۔ طلباء اور نوجوانوں کے تعلق سے حکومت کا یہ لاپرواہی اور تغافل والا رویہ انتہائی افسوسناک ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ نوجوانوں اور طلباء برادری کی اہمیت ہوتی ہے اور وہی ملک کا مستقبل ہوتے ہیں ۔ وہی ملک کو آگے لیجانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود حکومت ان کے احتجا ج کو خاطر میں لانے تیار نہیں ہے ۔ طلباء کے مطابق حکومت ان مطالبات کے تعلق سے بہری ہوگئی ہے ۔
طلباء برادری تین ہفتوں تک حکومت کے رد عمل کا انتظار کرتی رہی اور اس کے جواب کی منتظر رہی ۔ تاہم حکومت نے کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی کوئی پہل کی ہے ۔ ایسے میں تین ہفتوں تک انتظار کرنے کے بعد طلباء نے پارلیمنٹ تک پہونچنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ وہ 20 جولائی پیر کو جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک پرامن مارچ کرے گی تاکہ حکومت کی توجہ مبذول کروائی جاسکے ۔ اسی دن سے پارلیمنٹ کے مانسون سشن کا بھی آغاز ہونے والا ہے ۔ سی جے پی کا یہ اقدام حق بجانب کہا جاسکتا ہے کیونکہ حکومت تاحال کوئی جواب نہیں دے رہی ہے اور اب جبکہ پارلیمنٹ سشن کا آغاز ہوگا تو نہ صرف حکومت کے تمام ذمہ دار بلکہ تمام اپوزیشن جماعتوں کے قائدین بھی ایوان پہونچیں گے تو ایسے میں سی جے پی کے مطالبات کو بہتر اور موثر ڈھنگ سے پیش کرنے میںآسانی ہوگی اور شائد حکومت کو اس وقت جواب دینا ضروری محسوس ہوجائے ۔ اپوزیشن جماعتیں بھی اس مسئلہ پر حکومت سے جواب طلب کرسکتی ہیں اور پارلیمنٹ میں بھی اس کا تذکرہ کیا جاسکتا ہے ۔ یہ ایک حکمت عملی والا فیصلہ کہا جاسکتا ہے کیونکہ کسی ٹکراؤ کے بغیر احتجاج کو سارے ملک کی تائید و حمایت حاصل ہو رہی ہے اور طلباء برادری سے اور نوجوانوںسے کئی لوگ اظہار یگانگت کر رہے ہیں ۔
یہ شبہات ضرور لاحق ہو رہے ہیں کہ پولیس پارلیمنٹ مانسون سشن کا بہانہ کرتے ہوئے سی جے پی کو احتجاج کی اجازت نہیں دے گی اور اس مار چ کو پارلیمنٹ اسٹریٹ پہونچنے سے قبل ہی روک دیا جائے گا۔ تاہم اس کے نتیجہ میں میڈیا بھی اس معاملے پر کچھ وقت خرچ کرنے کو تیار ہوسکتا ہے اور اس کے ذریعہ ملک بھر کے عوام کے سامنے یہ آواز پہونچ سکتی ہے ۔ حکومت کو اپنا ہٹ دھرمی والا رویہ ترک کرنے کی ضرورت ہے اور نوجوانوں کے مسائل اور ان کی شکایات کی سماعت کرنی چاہئے اور جو ان کے جائز اور واجبی مطالبات ہیں ان کی تکمیل میں کوئی عار محسوس نہیں کی جانی چاہئے ۔