کاکروچ ڈیموکریسی غیر مسلح اور خطرناک

   

ارون دھتی رائے
ملک میں فی الوقت نوجوان مودی حکومت کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں اور کہا جارہا ہے کہ مودی اور ان کی حکومت بلکہ ان کی پارٹی بی جے پی کے قائدین نے عوام کو بہت بیوقوف بنالیا ہے ۔ اب عوام کے ذہنوں میں یہ سوال گردش کرنے لگا ہے کہ آخر کب تک لوگوںکو بے وقوف بنایا جاتا رہے گا ، کب تک ان کا مختلف بہانوں اور طریقوں سے استحصال کیا جاتا رہے گا ؟ ۔ کیا ہر وقت تمام لوگوں کو بیوقوف بنایا جاسکتا ہے ؟ کیا دیڑھ ارب آبادی کے حامل ملک کو ہمیشہ ایک تعش کی طرح گھسیٹا جاسکتا ہے ؟ ایسا نہیں کیا جاسکتا کیونکہ کاکروچ آس پاس موجود ہیں ، وہ اب باہر آچکے ہیں ، کئی برسوں میں پہلی مرتبہ ہندوستانی ہونا بہت اچھا لگا اور ایسے وقت جبکہ عوام کی امیدیں ختم ہوچکی تھیں لیکن وہ منظر عام پر آئے کاکروچ کی شکل میں آئے ، ایسے وقت جبکہ بارش برس رہی تھی ایک جج اور ایک طنزیا مذاق کے ناپاک اتحاد سے جنم لینے والی تحریک کی شکل میں منظر عام پر آئے اور ایسے آئے کے حکومت لرز گئی، عوام نے چین کی سانس لی ۔ ہم اس کہانی سے کہانی کے کردارو ں سے اچھی طرح واقف ہیں لیکن میں یہاں وہ کہانی دہرا رہی ہو ں اوروہ بھی اس لئے کہ ریکارڈ میں رہے ۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت نے نوجوانوں بالخصوص بیروزگار نوجوانوں کے خلاف ایک متکبرانہ اور توہین آمیز تبصرہ کیا ، جس میں انہوں نے چند بیروزگار ہندوستانی نوجوانوں کو جھنگر (Cockroach) قرار دیا جس کے خلاف نوجوانوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ۔ اسی دوران بوسٹن امریکہ میں زیر تعلیم ابھیجیت دیپکے نے انسٹا گرام پر ایک بیان پوسٹ کیا جس میں انہوں نے کہا تھا ’ کیوں نہ ہم سب کاکروچ متحد ہوجائیں ‘ جس پر لاکھوں نوجوانوں نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا ۔ اس طرح کاکروچ جنتا پارٹی وجود میں آئی ، اس طرح دیپکے کاکروچس ( جھنگروں ) کا پائڈ پائپر( بانسری والا ) بن گئے اور پھر سی جے پی کا جو پہلا مطالبہ تھا وہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ تھا ۔ کاکروچ جنتا پارٹی نے پُرزور انداز میں حکومت سے دھرمیندر پردھان کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اس نے الزام عائد کیا کہ کرپشن کے ذریعہ NEET جیسے مسابقتی امتحانات میں دھاندلیوں کا ارتکاب کیا گیا اور اس کرپشن کیلئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان ذمہ دار ہیں ۔ ان کی قیادت میں وزارت تعلیم بدعنوانیوں گھپلوں اور پیپر لیکس ( پرچوں کے افشاء ) سے سڑگل گئی ہے اور وزارت تعلیم کے تحت ہونے والے مسابقتی امتحانات میں پرچے مسلسل لیک ہورہے ہیں ۔ باالفاظ دیگر پرچوں کا لیک ہونا ایک معمول بن گیا ہے ، پرچوں کے لیک ہونے سے اُن لاکھوں نوجوانوں کی زندگیاں تباہ و برباد ہوگئیں جنہوں نے برسوں ان مسابقتی امتحانات کی تیاری کی، اپوزیشن جماعتوں کے مطابق سال 2014ء سے اب تک پیپر لیک کے 152 واقعات پیش آچکے ہیں جس سے لاکھوں نوجوان طلبہ کی زندگیاں تباہ ہوکر رہ گئیں ۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو مسابقتی امتحانات کی فیس کے نام پر قانونی طریقے سے زبردستی رقم وصول کرنا ہے ، یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ حالیہ عرصہ کے دوران نیٹ میں پیپر لیک ہونے کے بعد اس کا دوبارہ انعقاد عمل میں آیا ۔ نیٹ امتحان کی منسوخی کے نتیجہ میں مایوس ہوکر کم از کم 12طلباء وطالبات نے خودکشی کرتے ہوئے زندگیوں کا خاتمہ کرلیا ۔ ( رپورٹ کے مطابق 24 طلباء و طالبات نے خودکشی کی ) جسے ہی کاکروچ ( تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوان ) کی برہمی میں اضافہ ہوا ، خاص طور پر آن لائن برہمی میں اضافہ ہوا وہ ناراضگی اور برہمی سونامی میں تبدیل ہوئی ۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے 6جون کو بوسٹن سے سیدھے دہلی پہنچے اور دارالحکومت میں واقع احتجاج کیلئے مشہور و معروف مقام جنتر منتر گئے ۔ یہاں ان کے ساتھ ملک کے ممتاز سماجی جہد کار اور ماہر تعلیم سونم وانگچک بھی شامل ہوئے ۔ لداخ کے اس ماہر تعلیم نے جنتر منتر پر طلبہ کی تائید و حمایت میں بھوک ہڑتال شروع کی ۔ 6 یونیورسٹی طلبہ نیہا پورا ، منیش کمار ، امین امپتوش ، دانش علی ، ہریش کیش اور دیپک جن کا آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن (AISA) سے تعلق ہے ۔ ( آپ کو بتادیں کہ AISA کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (لبریش) کی اسٹوڈنٹ ونگ ہے )وہ بھی بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے اور سونم وانگچک کے اسٹیج سے متصل اسٹیج سنبھال لیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے طلبہ کی تائید میں احتجاجی مظاہروں کی یہ لہر ملک کے دوسرے شہروں میں بھی پھیل گئی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بھوک ہڑتال پر بیٹھے وانگچک اور دوسرے طلبہ کی حالت تشویشناک ہوگئی اور نوجوان کاکروچ نے جو انٹرنیٹ پر مہم چلانے میں مصروف تھے جنتر منتر آنا شروع ہوگئے ۔ اس کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ 20جولائی کو پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے ، جس مارچ کا منصوبہ بنایا گیا اس سے دو دن قبل ہی سونم وانگچک کو جنتر منتر سے پولیس نے جبراً اٹھا لیا اور حراست میں لیکر چلی گئی ۔ سونم کو ایک سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا اور بعد میں ان کی اہلیہ کے اصرارپر ایک خانگی اسپتال میں ان کی منتقلی عمل میں آئی ۔ کاکروچس کا طوفان دارالحکومت دہلی میں امڈ پڑا ۔ وہ ٹرینوں ، بسوں ، طیاروں ، میٹرو ٹرینوں کے ذریعہ دہلی آئے اور وقت کزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہونے لگا ۔ دہلی میں سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی حکومت کے اقدامات سے مایوس اور برہم نوجوان امڈ پڑے اور حکومت کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی کہ عوام اور ملک کی حیثیت سے ہمارے وقار، ایک جمہوری ملک کے شہری کی حیثیت سے ہمارے حقوق کا تحفظ کیجئے۔ طلبہ نے بڑی بے جگری کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا اور پھر دن کے ختم ہونے تک ایسا محسوس ہوا کہ یہ احتجاج بہت بڑا رُخ اور بڑی شکل احتیار کرنے والا ہے ۔ طلبہ کے احتجاج سے یہ ظاہر ہونے لگا کہ دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ تو ایک معمولی بات ہے ایک چھوٹی سے بات ہے جبکہ سارا نظام حکمرانی میں سڑن پیدا ہوچکی ہے اور یہ اوپر سے نیچے تک صاف نظر آرہی ہے اور ایک اس سڑی گلی نعش کے اطراف و اکناف میں تعفن پھیل گیا ہے ۔ اس کی بدبو نے شہریوں بالخصوص طلبہ اور ان کے والدین کی زندگیوں کو بدمزہ بنا دیا ہے اور اس کے خلاف کاکروچس متحدہ طور پر نکل آئیں ہیں جن کی عمریں ساتھ آٹھ سال کی بھی نہیں وہ اس نظام کی سڑن کو ختم کرنا چاہتے ہیں ۔