انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور سی بی آئی کو نظر نہیں آرہا ہے :وزیر بلدی نظم و نسق تارک راما راؤ
حیدرآباد : 29 اگست ( سیاست نیوز) ملک میں غیر بی جے پی حکومتو ں کیخلاف قومی تحقیقاتی ایجنسیاں سی بی آئی ۔ ای ڈی اور انکم ٹیکس سرگرم رول ادا کررہی ہیں ۔ وزراء اور پارٹی کے دوسرے ارکان کو نوٹسیں دی جارہی ہیں ، انہیں پوچھ تاچھ کیلئے طلب کیا جارہا ہے ۔ بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں، رقمی لین دین کے معاملات میں جیل بھی بھیجا جارہا ہے لیکن ڈبل انجن والی بی جے پی ریاستو ں میں قومی تحقیقاتی ایجنسیاں کہیں نظر نہیں آرہی ہیں جو سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔ کرناٹک میں ایک رکن اسمبلی نے کہا کہ چیف منسٹر کا عہدہ 2500 کروڑ روپئے میں فروخت ہوا ہے لیکن تحقیقاتی ایجنسیوں نے اس کو فراموش کردیا ہے ۔ہفتہ کو بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے ہنمکنڈہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت پر بدعنوانیوں میں ڈبل ہونے کا الزام عائد کیا ۔ ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر نے اس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جے پی نڈا کو مشورہ دیا کہ وہ پہلے اپنا محاسبہ کریں ۔ کرناٹک کی ڈبل انجن حکومت میں موجود بی جے پی کے رکن اسمبلی نے چیف منسٹر بننے کیلئے 2500 کروڑ روپئے دینے کی ضرورت ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ آپ کی حلیف سی بی آئی اور ای ڈی اب کہاں ہیں ، انہیں یہ سب کیوں دکھائی نہ دینے کا ریمارک کرتے ہوئے کے ٹی آر نے ایک ٹیوٹ کیا ہے ۔ کرناٹک بی جے پی حکومت پوری طرح کرپشن کا شکار ہے ۔ تعلیم میں 40فیصد ، کنٹراکٹرس سے40 فیصد ، محکمہ سیاحت میں 40فیصد اور گرانٹس میں 30فیصد کمیشن دینے کا کنٹراکٹرس دعویٰ کررہے ہیں ۔ اخبارات میں شائع ہوئی خبروں کا کے ٹی آر نے حوالہ دیا ہے ۔ انہوں نے بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کو مشورہ دیا کہ وہ ٹی آر ایس حکومت پر بدعنوانیوں کے الزامات عائد کرنے سے قبل کرناٹک بی جے پی حکومت میں جو بدعنوانیاں ہورہی ہیں پہلے اس کو درست کرلیں ۔ بی جے پی کے رکن اسمبلی نے چیف منسٹر کے عہدہ کی فروخت کو لیکر جو الزام عائد کیا ہے اس کی تحقیقات کرالیں ۔ ن