اُڈوپی : حجاب کے مسئلہ پر کئی روز احتجاج کے بعد باحجاب طالبات کو آخرکار کرناٹک کے ضلع اُڈوپی کے علاقہ کونڈا پورہ میں واقع گورنمنٹ پی یو کالج میں پیر کو کیمپس میں داخلہ کی اجازت تو دی گئی لیکن ان طالبات کے لئے علحدہ کلاس رومس میں نشستیں فراہم کی گئیں۔ اسکول کے نظم و نسق نے یہ اطلاع دی ۔ ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اُڈوپی ایس پی سدا لنگپا نے کہاکہ کونڈا پورہ کی صورتحال قابو میں ہے اور طالبات کو کالجوں اور کیمپس میں داخلے کی اجازت دی جارہی ہے ، بھلے ہی وہ حجاب لگاکر آئیں۔ کونڈا پورہ میں لا اینڈ آرڈر کا کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔ باحجاب طالبات نے جمعہ کو گورنمنٹ پی یو کالج کے باہر احتجاج کیا تھا کیونکہ اُنھیں حجاب کے ساتھ داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔
اوڈوپی میں مظاہرے کے مقام پر دو مسلح افراد گرفتار
قبل ازیں کونڈا پورہ میں سرکاری پی یو کالج کے پاس حجاب تنازعہ سے متعلق احتجاجی مظاہرے میں ہتھیار کے ساتھ شامل ہونے کے الزام میں پیر کو دو لوگوں کو گرفتار کرلیا گیا ۔ انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔ ذرائع نے کہا کہ گرفتار کے گئے دونوں نوجوانوں کو روڈی شیٹر مانا جارہا ہے ۔دونوں ملزمین پر قتل کی کوشش ،خطرناک ہتھیار سے فساد کرنے اور مجرمانہ سازش رچانے کا الزام لگایا گیا ہے ۔پولیس افسر نے کہا کہ جائے وقوع سے تین دیگر مفرو ملزمین کی تلاش جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم مفرور ملزمین کو پکڑنے کیلئے تلاشی مہم چلا رہے ہیں۔ اُن کے پاس بھی خطرناک ہتھیار تھے ۔ گرفتار ملزمین کی شناخت عبدالمجید (32سال ) اور رجب (41) کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں کونڈا پورہ کے نزدیک کے گاؤں کے رہنے والے ہیں۔دوسری طرف کونڈا پورہ میں بھنڈارکر کالج اور سرکاری پی یو کالج کی طالبات نے اڈیشنل پولیس کمشنر کو کلاس شروع ہونے کے دوران انہیں حجاب لگاکر آنے کی اجازت دینے کیلئے ایک میمورنڈم پیش کیا۔اس سے قبل ریاستی وزیر داخلہ گیانیندر نے کہا کہ تنازعہ کو اسلام پسندوں کے ذریعہ شروع کیا گیا تھا۔