’ کرنسی تنسیخ ‘ غیر قانونی ، بے قاعدگیوں کی نشاندہی

   


پانچ ججس کے بنچ میں اقلیتی فیصلہ میں رائے ، پارلیمنٹ کے کردار کو واضح کیا گیا
حیدرآباد۔2۔جنوری(سیاست نیوز) کرنسی تنسیخ معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا ہم احترام کرتے ہیں لیکن فیصلہ میں اقلیتی فیصلہ کے دوران سپریم کورٹ نے حکومت کو جھٹکا دیا ہے۔ سابق وزیر فینانس مسٹر پی چدمبرم نے سپریم کورٹ کی جانب سے کرنسی تنسیخ کے فیصلہ پر سنائے گئے فیصلہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ 5ججس پر مشتمل بنچ میں اقلیتی فیصلہ میں جو رائے ظاہرکی گئی ہے اس میں جمہوریت میں پارلیمنٹ کے کردار کو واضح کرنے کے علاوہ ’’کرنسی تنسیخ ‘‘ کو غیر قانونی قراردیا گیا ہے اور بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ پی چدمبرم نے اپنے بیان میں کہا کہ جب سپریم کورٹ نے 4:1 سے کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کو برقرار رکھاہے اور اسے چیالنج کرنے والی درخواستوں کو مسترد کردیا ہے تو اسے ہم قبول کرنا چاہئے لیکن اقلیتی فیصلہ میں جو نشاندہی کی گئی وہ بھی قابل غور ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ اقلیتی فیصلہ نے پارلیمانی جمہوریت کے ذریعہ عوام پر تباہ کن اور بے لگام فیصلوںکو مسلط کرنے کے اقدامات پر روک لگانے کی بات کہی ہے جو کہ انتہائی خوش آئند ہے۔ سابق وزیر فینانس نے ٹوئیٹر کے ذریعہ جاری کئے گئے اپنے بیان میں کہا کہ 500 اور 1000کے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے معاملہ میں جب سپریم کورٹ نے اسے قانون کے طور پر قبول کیا ہے تو ہم اس کا احترام کرنے کے پابند ہیں ۔ انہو ں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں اکثریت نے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا ہے کہ جس مقصد اور ہدف کو مقرر کرتے ہوئے حکومت نے کرنسی تنسیخ کا فیصلہ کیا تھا ان اہداف کو حاصل کیا گیا ہے۔ چدمبرم نے کہا کہ یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ اکثریت کے فیصلہ نے حکمت کو برقرار نہیں رکھا اور نہ ہی اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ کرنسی تنسیخ کے مقاصد کو حاصل کیا جاسکا ہے یا نہیں!اقلیتی فیصلہ میں معزز جج نے کرنسی تنسیخ کو غیر قانونی قراردیتے ہوئے اسے ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے آزادانہ طور پر کیا جانا چاہئے تھا اور اسے حکومت کی مشاورت سے نہیں کیا جانا چاہئے تھا جبکہ حکومت کے فیصلہ کی تائید کرنے والے 4 ججس نے جسٹس ایس اے نذیرکی سربراہی میں اس فیصلہ کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلہ میں خامی نہیں ہوسکتی کیونکہ ریزرو بینک آف انڈیا اور مرکزی حکومت دونوں نے ہی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے۔سابق وزیر فینانس نے عدالت کے فیصلہ کے دونوں حصوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے اس فیصلہ کا احترام کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں موجود تمام نکات کا مشاہدہ کرنا چاہئے ۔م