کرنسی تنسیخ کے 6 سال بعد بھی نقد لین دین کے رجحان میں کوئی کمی نہیں

   


30.88 لاکھ کروڑ کی نقد کرنسی کا چلن : آر بی آئی ، بے روزگاری جوں کی توں برقرار
حیدرآباد۔7۔نومبر۔(سیاست نیوز) ملک میں کرنسی تنسیخ کے 6برس گذرنے کے باوجود شہریوں میں نقد لین دین کے رجحان میں کوئی کمی نہیں آئی ہے بلکہ ملک کی جملہ دولت کا زائد از 70 فیصد حصہ نقد کی شکل میں عوام کے پاس اب بھی موجود ہے۔ نریندر مودی حکومت نے 2016 میں 8نومبر کی شب اچانک 1000 اور 500کے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر میں عوام کو مشکلات میں مبتلاء کردیا تھا اور یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اندرون 50 یوم ملک سے بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں‘ دہشت گردی ‘ نقد لین دین کا خاتمہ ہوجائے گا اور بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کے اس فیصلہ کے بعد کئی سیاسی جماعتوں بشمول تلنگانہ راشٹر سمیتی نے بھی کرنسی تنسیخ کے اس فیصلہ کی کھل کر حمایت کی تھی لیکن اب 6 برس گذرنے کے بعد جو تفصیلات نقد لین دین کے متعلق منظر عام پر آرہی ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ بات ثابت ہونے لگی ہے کہ کرنسی تنسیخ کے فیصلہ سے ہندستان کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا ہے بلکہ حکومت کے اس فیصلہ کے سبب کئی شہریوں کو اپنی جانیں گنوانی پڑی اور کئی شہری گذشتہ 6برسوں سے مسائل کا شکار ہیں۔ حکومت کے کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد پیدا شدہ حالات کے سبب کئی چھوٹے صنعتی اداروں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کو اپنی ملازمتوں سے محروم ہونا پڑا بلکہ کئی صنعتی اداروں نے اپنی صنعتیں بند کردیں۔ کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد حکومت کی جانب سے کئے گئے دعوؤں میں سب سے اہم نقد لین دین پر قابو کرنے کی بات کہی گئی تھی لیکن اب بھی نقد لین دین کا سلسلہ جاری ہے اور روزانہ کے اساس پر کروڑہا روپئے کالا دھن پکڑا جا رہاہے ۔30.88لاکھ کروڑ کی نقد کرنسی ریزرو بینک آف انڈیا کے مطابق چلن میں ہے اور یہ اعداد و شمار 21اکٹوبر 2022 کے ہیں جبکہ 4 نومبر 2016کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت ملک بھر میں مجموعی اعتبار سے 17.7 لاکھ کروڑ کی کرنسی چلن میںتھی اور اب جو کرنسی چلن میں ہے اس کا حساب لگایا جائے تو کرنسی تنسیخ کے وقت جو کرنسی چلن میں تھی اس کے اعتبار سے 71.84 فیصد زائد کرنسی ملک بھر میں چلن میں ہے۔ کرنسی تنسیخ کے سلسلہ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے جو دعوے کئے تھے ان میں نقد لین دین کو کم کرنے کے علاوہ کالے دھن پر اس اقدام کو کاری ضرب قرار دیا گیا تھا لیکن اب جبکہ کرنسی تنسیخ کے 6برس گذر چکے ہیں اس کے باوجود ملک بھر میں اس کے کوئی مثبت اثرات نظر نہیں آرہے ہیں اور ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ کرنسی تنسیخ کے بعد جو بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے اس پر اب تک قابو نہیں پایا جاسکا۔م