کشمیریوں کے بھیس میں پاکستانی نمائش کی تجارت کے نام سوشیل میڈیا پر گمراہ کن پروپگنڈہ
حیدرآباد۔ 9۔جنوری(سیاست نیوز) حیدرآباد میں لگائی جانے والی صنعتی نمائش بھی اب فرقہ پرستوں کے نشانہ پر ہے اور وہ نمائش میں اسٹالس لگاتے ہوئے تجارت کرنے والوں کو بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کے استعمال کے ذریعہ فرقہ پرستوں کی جانب سے حیدرآباد کی تاریخی صنعتی نمائش کو نشانہ بنانے کے لئے اسے مذہبی رنگ دیتے ہوئے یہ پیغام گشت کئے جا رہے ہیں کہ کل ہند صنعتی نمائش میں کشمیریوں کی بھیس میں پاکستانی نمائش میں تجارت کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک پیغام میں یہ دعویٰ کیا جا رہاہے کہ کل ہند صنعتی نمائش میں بیشتر کاروبار مسلمانوں کے ہیں اور ان تجارتی اداروں سے کاروبار کے بائیکاٹ کی اپیل کی جار ہی ہے۔ تلنگانہ ریاستی حکومت بالخصوص محکمہ پولیس اور سائبر کرائم کو اس پیغام پر توجہ دیتے ہوئے فوری طور پر کاروائی کرنی چاہئے اور مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے مسلم تاجرین کا بائیکاٹ کر نے کی اپیل کرنے والوں کو حراست میں لینے کے اقدامات کئے جانے چاہئے ۔ شہر حیدرآبادکو بھاگیہ نگر قرار دینے کی کوشش کرنے والی طاقتیں جو کہ شہر حیدرآباد میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کے لئے مختلف طریقہ کار اختیار کرتے رہتے ہیں نے اس مرتبہ کل ہند صنعتی نمائش کو نشانہ بناتے ہوئے یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والو ںکو صنعتی نمائش کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔ کل ہند صنعتی نمائش میں تجارت کرنے والے کشمیریوں کے تعلق سے پاکستانی ہونے کا جھوٹا پروپگنڈہ کرتے ہوئے اس مہم کے پس پردہ عناصر ان کی سیکیوریٹی کے لئے خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد کے سرکردہ تجارتی اداروں مسقطی ڈیری پراڈکس اور پستہ ہاؤز کا نام اس میسیج میں رکھا گیا اور یہ دعویٰ کیا جا رہاہے کہ کل ہند صنعتی نمائش کے بیشتر مقامات پر ان دونوں تجارتی اداروں کی تشہیر ہونے لگی ہے ۔ اس کے علاوہ نمائش میں لگائے جانے والے نغموں پر بھی اعتراض کیا جا رہاہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اس پیغام میں یہ دعویٰ کیا جا رہاہے کہ نمائش کو 2014تا2023 میں بی آر ایس کے دور حکومت کے دوران مسلمانوں کے حوالہ کرنے کے اقدامات کئے گئے اور اب جبکہ ریاست میں کانگریس نے اقتدار حاصل کرلیا ہے ایسے میں کانگریس حکومت کی نگرانی میں 90 فیصد اسٹالس مسلم تاجرین کو حوالہ کئے گئے ہیں جبکہ اس نمائش میں تجارت کرنے والوں کو آمدنی غیر مسلموں سے ہورہی ہے۔ اس پیغام میں غیر مسلموں سے نمائش کے بجائے برلا مندر ‘ برلاپلانیٹوریم اور اطراف کی منادر کا دورہ کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے جبکہ نمائش جانے سے اجتناب کی اپیل بھی کی جارہی ہے۔ محکمہ پولیس اور سائبر کرائم کی جانب سے نفرت پھیلانے کا سبب بننے والے اس پیغام کے متعلق تحقیقات کرتے ہوئے ان اشرار کے خلاف کاروائی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر یہ پیغام اسی رفتار کے ساتھ پھیلتا رہا تو ایسی صورت میں نہ صرف تجارتی نقصانات کا خدشہ ہے بلکہ عوام میں نفرت میں بھی اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔3