کمسن بچوں میں کورونا کی طویل مدتی علامات کا انکشاف

   

دو ماہ تک کورونا کے اثرات رہ سکتے ہیں،ڈنمارک کی یونیورسٹی ماہرین کی تازہ تحقیق
حیدرآباد۔24۔ جون (سیاست نیوز) ملک میں کورونا کے کیسس میں بتدریج اضافہ کے پیش نظر ماہرین نے عوام کو کووڈ قواعد پر عمل آوری کا مشورہ دیا ہے۔ نئی تحقیق سے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ تین سال عمر تک کے کمسن بچے بھی کورونا سے طویل عرصہ تک متاثر رہ سکتے ہیں۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے کمسن بچوں اور ضعیف العمر افراد کو کورونا سے بچاؤ کے لئے زیادہ احتیاط کرنے کی تلقین کی ہے کیونکہ کورونا وائرس سے یہ زمرہ بآسانی متاثر ہوسکتا ہے ۔ کمسن بچوں اور ضعیف العمر افراد میں قوت مدافعت کی کمی کے نتیجہ میں کورونا بآسانی اپنا اثر دکھا سکتا ہے ۔ ایک خانگی ادارہ کی جانب سے جاری کردہ اسٹڈی رپورٹ کے مطابق تین سال عمر کے کمسن بچے کورونا سے کم از کم دو ماہ تک متاثر رہ سکتے ہیں۔ عام طور پر علامات کے ختم ہوجانے پر کووڈ کا خاتمہ تصور کیا جاتا ہے لیکن ماہرین کے مطابق دو ماہ تک کمسن بچوں میں کورونا کی علامات اور اثر باقی رہ سکتا ہے۔ تین سال عمر کے بچوں میں عام طور پر پیٹ میں درد ، طبیعت میں چڑچڑاہٹ جیسی علامات پائی جاتی ہیں۔ ڈنمارک کی کوپن ہیگن یونیورسٹی ہاسپٹل کے ماہرین نے کمسن بچوں میں کورونا کے اثرات پر ریسرچ کیا جس میں پتہ چلا کہ جنوری 2020 سے جنوری 2021 ء کے درمیان صفر سے 14 سال عمر کے 11 ہزار بچوں میں کورونا پازیٹیو پایا گیا۔ 4 سے 11 سال تک عمر کے بچوں میں یادداشت کی کمزوری ، کام پر عدم توجہ کی شکایات پائی گئیں جبکہ 12 سے 14 سال عمر کے بچے اعضاء شکنی ، چڑچڑاہٹ اور دیگر شکایات کے حامل پائے گئے ۔ تین سال عمر تک کے 40 فیصد بچوں میں کورونا پازیٹیو پایا گیا۔ 1194 بچوں پر ریسرچ کیا گیا جس میں 478 کورونا سے متاثر پائے گئے ۔ ان میں دو ماہ سے زائد تک کورونا کے اثرات دیکھے گئے ۔ 14 سے 11 سال عمر کے 38 فیصد اور 12 سے 14 سال عمر کے 46 فیصد بچوں میں طویل مدتی کورونا علامات پائی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک تہائی بچوں میں کورونا پازیٹیو پایا گیا ۔ تاہم ان میں کوئی شدید نوعیت کی علامات نہیں تھی ۔ر