حیدرآباد۔ریاست تلنگانہ میں ماہ جنوری میں اسکولوں کی کشادگی کا جو منصوبہ بنایا جارہا تھا اس پر کیا عمل کیا جائے گا! ریاستی حکومت کی جانب سے اسکولوں کی کشادگی کی اجازت فراہم کرنے کے سلسلہ میں محکمہ تعلیم کی جانب سے موصولہ سفارشات پر جائزہ لینے کا عمل شروع ہی کیا گیا تھا کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر کے سلسلہ میں متنبہ کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اگر صورتحال بگڑتی ہے تو ایسی صور ت میں اسکولوں کی کشادگی کے کوئی امکانات نہیں ہیں ۔ ریاستی محکمہ تعلیم کی جانب سے ماہ جنوری کے دوران 9ویں اور 10ْٰویں کے علاوہ انٹرمیڈیٹ کی باضابطہ تعلیم کے آغاز کے سلسلہ میں کی گئی سفارش میں کہا گیاتھا کہ ریاست میں تلسنکرانت کے بعد موسم گرما شروع ہوجاتا ہے ایسے میں اسکولوں کی کشادگی کے اقدامات کو یقینی بنایا جاسکتا ہے اسی لئے جنوری کے دوسرے یا تیسرے ہفتہ میں اسکولوں کی کشادگی کا جائزہ لیا جا رہا تھا لیکن اب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر حیدرآباد اور تلنگانہ کے دیگر اضلاع میں جنوری سے اسکولوں کی کشادگی کا جو منصوبہ تیار کیا جا رہا تھا وہ ناقابل عمل ہوجائے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کی جانب سے وصول کی گئی سفارشات کا جائزہ لینے کے بعد اس سلسلہ میں قطعی احکامات کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی لیکن ذرائع کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر اور حالیہ اثرات کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ ان خدشات کے دوران اسکولوں کی کشادگی کا فیصلہ غیر دانشمندانہ ہوگا کیونکہ اسکولو ںمیں سماجی فاصلہ کی برقراری اور معمول کی صفائی سے زیادہ احتیاط کے امکانات بہت کم ہوتے ہیںجس کی وجہ سے اچانک کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے اسی لئے محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کی جانب سے حکومت کو روانہ کردہ سفارش کا ازسر نو جائزہ لینے کے پر غور کیا جانے لگا ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے طلبہ یا ان کے گھر والوں کو کسی بھی طرح کی مشکلات میں مبتلاء کرنے سے محفوظ رکھنے کے لئے حکومت نے اسکولوں کی کشادگی کے عمل کو اب تک روکے رکھا تھا لیکن امتحانات کے سلسلہ میں کہا جا رہا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے امتحانات کے انعقاد کے عمل کا جائزہ لیا جا رہاہے اور جنوری میں اسکولوں کی کشادگی کے معاملہ کو ایک مرتبہ پھر سے ماہرین کی کمیٹی کو روانہ کرتے ہوئے ان کی رائے حاصل کی جائے گی۔