کولمبیا یونیورسٹی کے غزہ جنگ مخالفین کیساتھ ٹرمپ انتظامیہ کا تنازعہ عدالت سے رجوع

   

واشنگٹن: امریکہ کی مشہور اور معتبر درسگاہ کولمبیا یونیورسٹی کے فیکلٹی کے گروپس ٹرمپ انتطامیہ کی طرف سے حالیہ مہینوں میں فنڈنگ میں کمی اور بعض تعلیمی اداروں کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ جو اس امر کا اظہار ہے کہ جس تنازعہ کو پہلے صرف طلبہ کی طرف سے باور کرانے کی کوشش تھی اب اساتذہ بھی اس میں متحرک حصے کے طور پرموجود ہیں۔کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسروں کے نمائندہ گروپوں نے منگل کے روز ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ دائر کیا ہے۔ اس انتظامیہ نے یونیورسٹی کو کیمپس میں ہونے والے مظاہروں پر قوانین کو سخت کرنے پر مجبور کرنے کے لیے فنڈز کا دباؤ استعمال کرنے کے اقدامات کیطور پر فنڈز میں 400 ملین ڈالرکمی کر دی ہے۔’امیریکن ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی پروفیسرز’ اور ‘امیریکن فیڈریشن آف ٹیچرز’ نے مین ہٹن فیڈرل کورٹ میں اپنے دائر کیے گئے مقدمے میں موقف اختیار کیا ہے کہ یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی یونیورسٹی کی تعلیمی خودمختاری اور سوچ کو فکر کو غیر معمولی طور پر دبانے کی ایک غیر قانونی کوشش ہے۔امریکی ٹرمپ انتظامیہ کولمبیا یونیورسٹی کے کیمپس میں تقریر اور اظہار کے حق کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔اس سلسلے میں ان فنڈز کو روکا جا رہا ہے جو یونیورسٹی کے نظام کو سائنسی، طبی اور تکنیکی تحقیق کے میدانوں میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے یونیورسٹی کو موقع دیتے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ نے یونیورسٹی پر کیمپس میں سام دشمنی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک مخصوص شعبہ یعنی مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افریقی اسٹڈیز کو اکیڈمک ریسیور شپ میں رکھے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ ایک غیر معمولی اقدام ہے جس کے تحت یونیورسٹی کے حکام نے غیر فعال تصور کیے جانے والے شعبہ میں فیکلٹی سے اختیارات چھین لیے ہیں۔
آئی ایم کے ساتھ سال 2024 کے وسط میں حاصل ہونے والے اس بیل آئوٹ پروگرام نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور حکومت کے مطابق ملک طویل المدت بحالی کے راستے پر گامزن ہے۔آئی ایم ایف نے ایک بیان میں کہا، “گزشتہ 18 ماہ کے دوران، پاکستان نے ایک چیلنجنگ عالمی ماحول کے باوجود میکرو اکنامک استحکام کی بحالی اور اعتماد کی بحالی میں نمایاں پیشرفت کی ہے۔