رہائشی اپارٹمنٹ اور اراضیات کی فروخت میں دلچسپی ، کمپنیوں کیلئے اراضی تخصیص کے بعد مرکز توجہ
حیدرآباد۔6۔مارچ۔(سیاست نیوز) شہرحیدرآباد کے نواحی علاقہ کونگراکلن رئیل اسٹیٹ تاجرین کی دلچسپی والا نیا علاقہ بن چکا ہے اور رئیل اسٹیٹ تاجرین آدی بٹلہ ‘ راوی رالہ کے بعد اب کونگرا کلن میں رہائشی اپارٹمنٹس اور اراضیات کی فروخت میں دلچسپی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں ہونے والی ترقی کا رخ اب کونگرا کلن کی سمت ہوچکا ہے اور اس موضع کی اہمیت میں اچانک اضافہ ہونے لگا ہے اور کہا جارہا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے فاکس کان کمپنی کو اس علاقہ میں 200 ایکڑ اراضی کی تخصیص کے بعد علاقہ کی اہمیت میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا جائے گا۔ گذشتہ برس تک بھی اس علاقہ میں اراضی کی قیمت 10ہزار روپئے مربع گز سے زیادہ نہیں تھی لیکن اندرون چند ماہ اس علاقہ میں اراضیات کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے فاکس کان کو اراضی کی حوالگی کے ساتھ ہی اس علاقہ کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ بنیادی سہولتوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں اور کمپنیوں کے قیام کی راہیں بھی ہموار ہونے لگ جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق اس علاقہ میں موجود اراضیات کی قیمتوں میں ہونے والے اضافہ کو دیکھتے ہوئے رئیل اسٹیٹ تاجرین اس علاقہ کے اطراف و اکناف موجود اراضیات کوحاصل کرتے ہوئے نئے رہائشی وینچر کے آغاز کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران ہائی ٹیک سٹی ‘ اپل کے علاوہ شاہ میر پیٹ کے طرز پر کونگراکلن علاقہ کی ترقی ریکارڈ کی جائے گی۔ریاستی حکومت نے الکٹرانک پارک کے لئے فاکس کان کمپنی کو 200 ایکڑ اراضی مختص کرنے کے علاوہ ٹاٹا کنسلٹنسی سروس اور دیگر کمپنیوں کوبھی اس علاقہ میں اراضیات حوالہ کرتے ہوئے علاقہ کی ترقی اور اسے ٹیکنالوجی کی نئی راہداری کے طور پر فروغ دینے کے جو اقدامات کئے ہیں ان کے مطابق اطراف کے علاقوں میں بڑے پیمانے پر سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔ آؤٹر رنگ روڈ سے متصل اس موضع کی ترقی کے بعد شہر حیدرآباد کے اطراف ایک اور شہر تیزی سے آباد ہونے کے امکانات پائے جانے لگے ہیں کیونکہ رئیل اسٹیٹ تاجرین کا کہنا ہے کہ اس علاقہ میں نئی کمپنیوں کے قیام کی تکمیل کے ساتھ ہی اس علاقہ میں رہائشی اپارٹمنٹس کی ضرورت میں اضافہ ہوگا اور ان کمپنیوں میں خدمات انجام دینے والوں کے علاوہ نوآبادیاتی علاقوں میں قیام کے خواہش مند اس علاقہ کا رخ کریں گے جس کی وجہ سے اس علاقہ کی ترقی اور اہمیت میں اضافہ ہوگا۔ بتایاجاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس موضع کی ترقی کے دوران جو منصوبہ بندی کی جائے گی وہ اب تک کے ترقی یافتہ علاقوں کو نظر میں رکھتے ہوئے خامیوں سے پاک ترقیاتی منصوبہ کو قطعیت دی جائے گی اسی لئے اس علاقہ کی ترقی مزید بہتر انداز میں ہونے کی توقع ہے۔م