نئی دہلی، 3 جولائی (یو این آئی) آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (ایمس)، دہلی کے ڈاکٹروں کے ایک پینل نے آج کووڈ 19 ویکسین کی افادیت کے تعلق سے شکوک و شبہات دورکرنے کی کوشش کی ہے ۔ پینل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ویکسین اور اچانک ہونے والی اموات جن میں دل کا دورہ پڑنے والی اموات بھی شامل ہیں کے درمیان کوئی معتبر تعلق نہیں ہے ۔ڈاکٹروں کے مطابق اس طرح کے واقعات کووڈ ویکسین کے بجائے طرز زندگی کے عوامل اور کئی بیماریوں بشمول سگریٹ نوشی اور شراب نوشی سے منسلک ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ ایک دن پہلے ہی صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر نے کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا کے ریاست میں نوجوانوں میں ہونے والی اچانک اموات کے اسباب کا پتہ لگانے کیلئے جانچ کا حکم دینے کے بعد ایک بیان جاری کیا تھا۔وزیراعلیٰ نے ان اموات میں کووڈ ویکسین کے اثرات کی جانچ کا حکم دیا تھا۔ایمس کے ڈاکٹروں نے اس بات پر زور دیا کہ لائق اعتبار ڈیٹا سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوتی۔انھوں نے لوگوں سے زور دے کر کہا ہے کہ وہ سائنسی ثبوتوں پر اعتبار کریں۔ ایمس دہلی کے کریٹیکل کیئر اینڈ سلیپ میڈیسن کے شعبہ پلمونری کے ایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹر کرن مدن نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اب تک استعمال ہونے والی ویکسین کا جائزہ لینے کے لیے اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ہونے والی اموات پر تحقیق کی گئی تھی لیکن اچانک دل کا دورہ پڑنے سے ہونے والی اموات سے کوئی واضح تعلق نہیں ملا۔انہوں نے مزید کہا کہ کووڈویکسین موثر ویکسین تھیں اور انہوں نے شرح اموات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وبائی امراض کے دوران ویکسین ہی زندگی بچانے کا واحد ممکنہ اقدام ہے ۔ بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے ویکسین کا استعمال کیا گیا اور اس سے بہت سے لوگوں کی جان بچائی جاسکی۔ ان ویکسینز کے فراہم کردہ فوائد سے واضح ہوتا ہے کہ ان ٹیکوں میں اوراچانک کارڈیک اموات کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے ۔ایمس دہلی کے سینٹر فار کمیونٹی میڈیسن کے پروفیسر ڈاکٹر سنجے رائے جو پریس کانفرنس میں مدن کے ساتھ موجود تھے انھوں نے بتایاکہ کوویشیلڈ ویکسین کی افادیت 62.1 تھی۔ فی الحال37 ویکسین پہلے ہی مختلف انضباطی اتھارٹیز سے منظور شدہ ہیں۔ ڈبلیو ایچ او نے تقریباً 12 ویکسینس کو منظوری دی ہے اور ان سے زیادہ تر الگ الگ ٹیکنالوجیز پر مبنی ہیں۔