حیدرآباد 13 مارچ (سیاست نیوز) وزیر تعلیم تلنگانہ سبیتا اندرا ریڈی نے کہاکہ ’منا اورو ۔ منا بڈی‘ اسکیم کا اصل مقصد مجموعی طور پر اسکول انفراسٹرکچر کو بہتر بنانا اور معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے۔ کل یہاں ریاستی اسمبلی میں تعلیم پر مطالبات زر کا جواب دیتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ اس پر عمل درآمد میں ابتداء میں کچھ رکاوٹیں ہوسکتی ہیں لیکن انھوں نے کہاکہ حکومت نہ صرف طلبہ کے مستقبل کو درخشاں بنانے پر توجہ دے رہی ہے بلکہ ٹیچرس کو ترقیاتی بھی دے رہی ہے۔ اس کے علاوہ اسکولس میں مخلوعہ جائیدادوں کو پُر کررہی ہے۔ اُنھوں نے تمام متعلقہ لوگوں سے منا اورو ۔ منا بڈی پروگرام کو کامیاب بنانے میں تعاون کرنے کی اپیل کی۔ اُنھوں نے کہاکہ آئندہ تعلیمی سال سے کلاس اول تا ساتویں جماعت انگلش میڈیم تدریس کے لئے ٹیچرس کو ٹریننگ دینے کا تجرباتی آغاز 14 مارچ سے کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت ایجنسی سے متعلق جلد ہی فیصلہ کرے گی جو ڈگری کالجس اور یونیورسٹیز کے تدریسی اور غیر تدریسی اسٹاف کا رکروٹمنٹ کرے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ یونیورسٹی وائس چانسلرس سے کہا گیا ہے کہ رکروٹمنٹ امتحانات تحریر کرنے طلبہ کے لئے کوچنگ کلاسیس منعقد کئے جائیں۔ سبیتا اندرا ریڈی نے کہاکہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد لڑکیوں کی تعلیم میں کافی اضافہ ہوا اور تقریباً 60 فیصد لڑکیاں یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم کو مزید بڑھاوا دینے کے لئے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے کوٹھی ویمنس کالج کو ویمنس یونیورسٹی بنانے کے علاوہ ایک فارسٹ یونیورسٹی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔