واشنگٹن : امریکہ نے کویت کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم کے علاوہ فضائی دفاع کا جدید نظام فروخت کرنے کی ایک اہم ڈیل کی منظوری دے دی ہے۔ اس اسلحہ فروخت کے معاہدے کی مالیت تین ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔پینٹا گون نے اس منظوری کے بارے میں بتایا ہے کہ اب کویت اپنے علاقے میں خراب عناصر سے نمٹنے کے علاوہ خلیجی ممالک میں فضائی دفاع کے نظام کے ساتھ بھی جڑ سکے گا۔ کویت کے لیے اس معاہدے کی منظوری امریکی وزارت خارجہ نے دی ہے۔معاہدے کے نتیجے میں کویت کو میدیم رینج کے میزائل ملیں گے۔ پینٹا گون کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں امریکی قومی سلامتی کے امور میں بھی مددگار ثابت ہو گی، جبکہ کویت اپنے ہی علاقے میں موجود خراب عناصر سے اپنی سلامتی ممکن بنا سکے گا۔نیز اس سسٹم کی مدد سے دوسرے خلیجی ممالک کے ساتھ بھی دفاعی نظام کے حوالے سے مطابقت پیدا کر سکے گا جو امریکہ بھی خطے میں استعمال کر رہا یا خلیجی ممالک کے زیر استعمال ہے۔پینٹا گون کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کویت اپنی سالمیت کے لیے دفاعی ضروریات پر خرچ کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس کی سرحدیں بھی محفوظ ہوں گی اور توانائی سے متعلقہ ڈھانچہ بھی زیادہ مضبوط ہو جائے گا۔کویت کے لیے یہ امریکی منظوری ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں ممکن ہوگئی ہے۔ اسی ایک مہینے کے اندر اندر ہی امریکہ نے کویت کے لیے ابرام ٹینکوں ایم 1 اے 2 کی تربیت دینے اور 250 ملین ڈالر کی مالیت کے ٹینکوں کے گولے دینے کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے خلیجی ممالک میں 4000 سے زائد امریکی شہری اور فوجی حکام موجود ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ معاہدے میں اصل ٹھیکیدار ریتھیون میزائل اینڈ ڈیفنس نامی ادارہ ہو گا۔امریکی حکومت اگلے دنوں میں تین سرکاری حکام اور پانچ کنٹریکٹرز کو کویت بھیجی گی تاکہ (NASAMS) کی فراہمی اور تربیت کا اہتمام ہو سکے۔
علاوہ ازیں امریکہ کے چھ کنٹریکٹرز بھی بعدازاں کویت جائیں گے جو اس معاہدے کے تحت ملنے والے جنگی آلات کی دیکھ بھال وغیرہ کے امور کو فالو اپ پروگرام کے انداز میں دیکھیں گے۔