8 برسوں کی کارکردگی پر رپورٹ، اقلیتی بہبود کیلئے 1724 کروڑ بجٹ، اجرائی اور خرچ کا تذکرہ نہیں
حیدرآباد ۔25 ۔ نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں کیا وسط مدتی انتخابات قریب ہیں؟ اگرچہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مقررہ وقت پر انتخابات کا اعلان کیا ہے لیکن حکومت کی جانب سے مختلف طبقات کی ترقی اور بھلائی کی اسکیمات پر وقفہ وقفہ سے جو رپورٹ جاری کی جارہی ہے ، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت انتخابی تیاریوں کا آغاز کرچکی ہے۔ حکومت کی مختلف اسکیمات اور خاص طور پر ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی ، اقلیت ، کسان اور خواتین کے لئے عمل کی جارہی مختلف اسکیمات پر 8 سالہ کارکردگی رپورٹ میڈیا کے لئے جاری کی جارہی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران محکمہ اقلیتی بہبود سے متعلق 3 اسکیمات کی رپورٹ اخبارات کیلئے جاری کی گئی۔ پسماندہ طبقات کی طرح حکومت اقلیتوں پر توجہ مرکوز کرچکی ہے۔ اگرچہ اقلیتی بہبود کی اہم اسکیمات گزشتہ تین برسوں سے ٹھپ ہیں لیکن حکومت کے دعوے اپنی جگہ برقرار ہیں۔ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ نے آج اقلیتی بہبود کے بجٹ ، شادی مبارک ، اقامتی اسکولوں کے قیام ، اوورسیز اسکالر اسکیم اور دیگر اسکیمات پر تفصیلی نوٹ جاری کیا۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ مالیاتی سال 2022-23 ء بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے 1724.696 کروڑ مختص کئے گئے۔ حکومت نے مختص کردہ بجٹ میں اجرائی اور خرچ کا کوئی تذکرہ نہیں کیا ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسے سی ، ایس ٹی اور بی سی طبقات کی طرح اقلیتوں کیلئے شادی مبارک اسکیم پر عمل کیا جارہا ہے۔ 2014-15 ء سے آج تک 228200 غریب مسلم خاندانوں کو شادی مبارک اسکیم کے تحت امداد فراہم کی گئی۔ غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے ایک لاکھ116 روپئے کی مالی امداد دی جاتی ہے۔ شادی مبارک اسکیم کے تحت گزشتہ 8 برسوں میں 2162 کروڑ مختص کئے گئے ۔ کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی فراہمی کیلئے 204 اقلیتی اقامتی اسکول اور جونیئر کالجس قائم کئے گئے ۔ اقلیتی اداروں میں 130560 طلبہ عصری سہولتوں کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہر اقامتی اسکول میں 640 طلبہ کو انگلش میڈیم میں تعلیم کا انتظام ہے۔ 107 بوائز اور 97 گرلز اقامتی اسکولس میں کارپوریٹ طرز کی سہولتیں فراہم کی گئی ہے۔ اقلیتی طلبہ کو بیرونی یونیورسٹیز میں تعلیم کا موقع فراہم کرنے سی ایم اوورسیز اسکالرشپ اسکیم 2015-16 میں متعارف کی گئی۔ 2015 ء سے آج تک 2725 طلبہ کا انتخاب کیا گیا اور 436 کروڑ کی تعلیمی امداد دی گئی۔ ہر طالب علم کو 20 لاکھ روپئے کی امداد دی جاتی ہے ۔ 2022-23 ء کے بجٹ میں 100 کروڑ روپئے اوورسیز اسکالر شپس اسکیم کے لئے مختص کئے گئے۔ اقلیتی طلبہ کے پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کیلئے 40 کروڑ اور فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے لئے 150 کروڑ مختص کئے گئے ۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری اداروں میں اردو کے دوسری سرکاری زبان کی حیثیت سے نفاذ کے لئے 66 اردو مترجمین کا تقرر کیا گیا۔ مسلمانوں کے فقیر طبقہ کیلئے 110 موپیڈ گاڑیاں جاری کی گئیں۔ رمضان المبارک میں غریب مسلمانوں کیلئے گفٹ پیاکٹس ، ائمہ اور مؤذنین کو ماہانہ 5000 روپئے اعزازیہ ، ہرسال 100 اقلیتی امیدواروں کو سیول سرویس کوچنگ ، مکہ مسجد کی تزئین نو کیلئے 8.48 کروڑ کی منظوری ، انیس الغرباء کامپلکس کی 39 کروڑ سے تعمیر ، درگاہ جہانگیر پیراں کی ترقی کیلئے 50 کروڑ کا منصوبہ ، جامع نظامیہ آڈیٹوریم کی 14.65 کروڑ سے تعمیر ، اسلامک کلچرل کنونشن سنٹر کیلئے 40 کروڑ کی منظوری ، اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ اون یوور آٹو ، ڈرائیور امپاورمنٹ اسکیم ، سلائی مشینوں کی تقسیم ، بینک سے مربوط قرض کی فراہمی اور اسکل ڈیولپمنٹ اسکیمات کا حکومت کے نوٹ میں ذکر کیا گیا ہے ۔ر