تھرواننتا پورم ۔ کیرالا ہائی کورٹ نے جمعہ کے دن فیصلہ سنایا کہ شادی اور طلاق کا ملک گیر قانون تشکیل جدید کا تقاضہ کرتا ہے اور اس سلسلہ میں تمام برادریوں کو شادی اور طلاق کے یکساں قانون میں کوئی مشکل پیش نہیں آنی چاہئے۔ ایک ڈیویژنل بینک نے جو جسٹس محمد مشتاق اور جسٹس کوثر بیگم پر مشتمل تھی یہ فیصلہ سنایا۔ ’’ہمیں ایک ایسے قانون کی ضرورت ہے جو انسانی مسائل سے انسانی ذہنیتوں کے پیش نظر صورت سے فیصلے کرسکے۔ ان افراد کو جب پرسنل لا کے تحت شادی کے لئے اپنے شریک زندگی کے انتخاب کا حق ہے تو معاہدے کے فریقین میں سے کسی ایک کو علیحدگی کے سلسلہ میں مخدوش حالت میں کیوں ہونا چاہئے۔ ایک شوہر کی درخواست مرافعہ کو مسترد کرتے ہوئے عدالت نے تبصرہ کیا کہ متاثرہ زوجہ کو معاوضہ کی مستحق قرار دیا جانا چاہئے۔ وہ ازدواجی زندگی کے سلسلہ میں ایک شوہر کی درخواست پر فیصلہ سنا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ زوجہ کی مخدوش حالت اس کو مطالبہ کے فوائد سے محروم کردیتی ہے جو علیحدگی کی صورت میں اسے حاصل ہوسکتا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ علیحدگی کے لئے درخواست دینے والے فریق کو دوسرے فریق کے مفادات کا محافظ قرار دیا جانا چاہئے۔