کیرالم ‘آسام اور پڈوچیری اسمبلی کیلئے ایک مرحلہ میں ووٹنگ مکمل

,

   

آسام میں کئی پولنگ مراکز پر تصادم، پولیس کی ہوائی فائرنگ، 7 افراد گرفتار

نئی دہلی ۔9؍اپریل ( ایجنسیز) آسام، کیرالم اور پڈوچیری میں آج اسمبلی انتخابات کیلئے ووٹ ڈالے گئے۔ آج، پانچ کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ ووٹرس نے دو ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ کے ہزاروں بوتھوں پر اپنی اپنی حکومتوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کیلئے اپنا حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ ووٹنگ صبح 7.00 بجے شروع ہوئی اور شام 6.00 بجے تک جاری رہی۔ الیکشن کمیشن نے ان علاقوں میں آزادانہ اور پرامن پولنگ کو یقینی بنانے کیلئے وسیع انتظامات کیے تھے۔ تمام حساس پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔آسام میں آج 126 رکنی اسمبلی کیلئے ووٹنگ کا عمل شام 6 بجے انجام پایا رتاہم اس دوران 2 مقامات پر تشدد کے سنگین واقعات پیش آئے۔ اس معاملہ میں پولیس افسران نے 7 لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ کئی پولنگ مراکز پر معمولی جھڑپیں دیکھنے کو ملیں۔ ان جھڑپوں میں کچھ لوگوں کو معمولی چوٹیں آئیں۔انسپکٹر جنرل آف پولیس اکھلیش کمار سنگھ نے بتایا کہ ہمیں کل رات تامْل پور میں 2 گروپ کے درمیان جھڑپ کی اطلاع ملی تھی۔ پولیس فوری طور پر موقع پہنچی اور بھیڑ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ جب بھیڑ بے قابو ہو گئی تو اسے منتشر کرنے کیلئے ہوا میں گولی چلائی گئی۔ شیوساگر سیٹ سے دوبارہ انتخاب لڑ رہے اکھل گوگوئی نے الزام عائد کیا کہ اس واقعہ کے پیچھے بی جے پی کے امیدوار کْشل ڈوواری کا ہاتھ تھا۔قابل ذکر ہے کہ 126 رکنی اسمبلی کے لیے ہوئی پولنگ میں 722 امیدواروں کی قسمت ای وی ایم میں قید ہو گئی ہے۔ پولنگ کے دوران شری بھومی، گولاگھاٹ اور ناگاؤں اضلاع کے کئی پولنگ مراکز پر چھوٹی موٹی جھڑپیں ہوئیں۔ حکمراں جماعت اور اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ ان ریاستوں میں رائے دہندگان میں ووٹنگ کے عمل کے حوالے سے جوش و خروش کا واضح احساس نمایاں ہے۔ کئی پولنگ اسٹیشنوں پر صبح سویرے ہی ووٹروں کا ہجوم دیکھاگیا۔ ایک مرحلے میں ہونے والے انتخابات میں کیرالم کی 140، آسام کی 126 اور پڈوچیری کی 30 سیٹوں کیلئے ووٹنگ ہو ئی۔ انتخابی عمل کو آسان بنانے کیلئے الیکشن کمیشن نے سخت حفاظتی پروٹوکول، ویب کاسٹنگ کی سہولیات اور جامع لاجسٹک انتظامات کیے ۔ آسام میں بی جے پی اور کانگریس میں دوطرفہ مقابلہ ہے ۔بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کی قیادت میں مسلسل تیسری مدت کیلئے کوشش کر رہی ہے۔ کانگریس کی قیادت والی اپوزیشن جس کی قیادت گورو گوگوئی کر رہے ہیں، ایک دہائی کے وقفے کے بعد دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کیلئے پر امید ہیں۔ ریاست میں تقریباً دو کروڑ 50 لاکھ ووٹرز ہیں جن میں ایک کروڑ 25 لاکھ سے زیادہ خواتین، پہلی بار ووٹ ڈالنے والے، بزرگ شہری، اور معذور افراد شامل ہیں جنہوں نے 31,490 پولنگ سٹیشنوں پر اپنا ووٹ ڈالا۔ کیرالم میں 140 اسمبلی سیٹوں کیلئے انتخابی جنگ ہوئی۔ لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) جس کی قیادت وزیراعلیٰ پنارائی وجین کر رہے ہیں لگاتار تیسری جیت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں کیونکہ انھیں کانگریس کی قیادت والے یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) سے چیلنج درپیش ہے۔ پڈوچیری میں، این ڈی اے، کانگریس۔ڈی ایم کے اتحاد، اور نو تشکیل شدہ تمیزہگا ویٹری کزگم (TVK) کے درمیان ایک کثیر الجہتی مقابلہ ہے جسے اداکار وجے نے قائم کیا ہے۔ تین ریاستوں میں آج ہونے والی ووٹنگ کے نتائج کا اعلان مغربی بنگال اور ٹاملناڈو کے نتائج کے ساتھ 4 مئی کو کیا جائے گا۔A/Y/H