واشنگٹن: اقوام متحدہ نے کینیا سے درخواست کی ہے کہ وہ پاکستانی صحافی ارشد شریف کی “پراسرار” موت کی مکمل تحقیقات کرے اور نتائج کو عام کرے ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئٹیرس کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ میں نے ان کی موت کی یہ افسوسناک رپورٹ دیکھی۔ میں سمجھتا ہوں کہ حالات کی مکمل چھان بین کی ضرورت ہے ۔ کینیا کے حکام نے کہا کہ وہ صحافی کی موت کی مکمل تحقیقات کریں گے ۔ دوجارک نے تحقیقات کے نتائج کو تیزی سے شیئر کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ واشنگٹن میں ایک نیوز بریفنگ میں ترجمان نیڈ پرائس نے امریکی انتظامیہ کی جانب سے کینیا کی حکومت کی جانب سے شریف کی موت کی مکمل تحقیقات کی اپیل کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس کی ضرورت ہے کیونکہ یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ صحافی کی موت کی وجہ کیا تھی۔ . کینیا کے حکام نے پہلے کہا تھا کہ شریف نیروبی کے نزدیک ایک سڑک پر کار میں بیٹھے ہوئے پولیس کی گولی لگنے سے مارے گئے ۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ وہ ایک اغوا شدہ بچے کے لئے گاڑیوں کی تلاشی لے رہے تھے ، اس دوران شریف کے ڈرائیور نے گاڑی نہیں روکی جس پر پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کردی۔ صحافی کے اہل خانہ نے پولیس کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے ۔ ایک صحافی نے بتایا کہ شریف نے دبئی میں اپنے امریکی ویزا کی تجدید کی کوشش کی لیکن ان کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ صحافی نے کہا کہ اگر ان کے ویزے کی تجدید ہو جاتی تو ان کی جان بچائی جا سکتی تھی۔