اپوزیشن قائدین کی جاسوسی اور فون ٹیاپنگ، حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی ریکارڈ حذف کرنے کا الزام
حیدرآباد۔/5 مارچ، ( سیاست نیوز) سابق بی آر ایس حکومت میں اپوزیشن کے خلاف کام کرنے کے الزامات کا سامنا کرنے والے پولیس اور سیول عہدیداروں کے معاملات یکے بعد دیگرے منظر عام پر آرہے ہیں۔ سابق حکومت میں اہم عہدوں پر فائز بعض اعلیٰ سیول عہدیداروں کے خلاف کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے۔ تازہ ترین معاملہ میں حکومت نے اسپیشل انٹلیجنس بیوریو کے سابق ڈی ایس پی ڈی پرنیت راؤ کو معطل کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈی پرنیت راؤ فی الوقت ڈی جی پی آفس میں برسرخدمت ہیں اور سابق حکومت میں اختیارات کے بیجا استعمال کا ان پر الزام ہے۔ کے سی آر حکومت میں وہ اسپیشل انٹلیجنس بیوریو کے ڈی ایس پی تھے اور انہوں نے اپوزیشن قائدین کے ٹیلی فون ٹیاپ کئے تھے۔ 2021 میں ریونت ریڈی نے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے الزام عائد کیا تھا کہ پرنیت راؤ اور ان کی ٹیم ان کی جاسوسی کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کے سی آر کی ہدایت پر تقریباً 30 پولیس عہدیدار پرنیت راؤ کی قیادت میں نگرانی کیلئے مقرر کئے گئے تھے ایسے کئی عہدیداروں کے معاملات پر ریونت ریڈی حکومت نے توجہ مرکوز کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پرنیت راؤ نے حکومت کی تبدیلی کے بعد آفس کے سی سی ٹی وی کیمرے بند کرتے ہوئے ریکارڈ کو حذف کیا تھا۔ 42 ہارڈ ڈسکس کے ریکارڈ کو حذف کرنے کا ان پر الزام ہے۔ اسپیشل انٹلیجنس بیوریو میں لیاپ ٹاپ، ہارڈ ڈسکس اور دیگر آلات کو ناکارہ بنانے کا معاملہ بھی منظر عام پر آیا ہے۔ اہم قائدین کے ٹیلی فون ٹیاپنگ کی تفصیلات، کال ڈیٹا ریکارڈنگ، ای ایم آئی نمبر اور دیگر تفصیلات کو حذف کرنے کا الزام ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ الیکٹریشن کی مدد سے عہدیدار نے سی سی ٹی وی کیمروں کو بند کردیا تھا۔ پرنیت راؤ پر سیاستدانوں سے متعلق تفصیلات کو کمپیوٹر سے حذف کرنے کے معاملہ میں تحقیقات میں تیزی پیدا کی جائے گی۔ اعلیٰ عہدیداروں کی اجازت کے بغیر ہی انہوں نے ہیڈکوارٹر پہنچ کر یہ کارروائی انجام دی تھی۔ ۔1