نئی حکومت کی تشکیل پر استعمال کا منصوبہ تھا، چیف منسٹر کی میڈیا سے بات چیت
حیدرآباد۔27۔ڈسمبر(سیاست نیوز) کے سی آر حکومت نے 22نئی لینڈ کروزر گاڑیاں اپنے قافلہ کے لئے خریدتے ہوئے اسے وجئے واڑہ میں رکھا تھا جو مجھے ابھی پتہ چلا ہے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج 6ضمانتوں کے حصول کے لئے فارم کی اجرائی کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران ا س بات کا انکشاف کیا کہ سابقہ حکومت نے 22لینڈ کروزر گاڑیاں خرید رکھی ہیں جو کہ نئی حکومت کی تشکیل کے بعد استعمال کرنے کا منصوبہ تھا۔ انہو ںنے بتایا کہ 3کروڑ مالیت کی ایک گاڑی کے اعتبار سے خریدی گئی 22 بلٹ پروف گاڑیاں اب بھی وجئے واڑہ میں موجود ہیں ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ انہوں نے ان کے لئے نئی گاڑیاں نہ خریدنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ پرانی گاڑیوں کی ہی مرمت کرواتے ہوئے ان کا استعمال کیا جائے لیکن چیف منسٹر بننے کے 10 یوم بعد انہیں اس بات سے واقف کروایا گیا ہے کہ حکومت تلنگانہ نے 22گاڑیاں خرید رکھی ہیں جن کی ڈیلیوری ابھی نہیں ہوئی ہے۔ انہو ں نے کے سی آر پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ حکومت نے اس طرح سے ریاست کے اثاثوں میں اضافہ کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سابقہ حکومت نے ریاست کے ایک لاکھ کروڑ روپئے کی بدعنوانیاں کی ہیں اور موجودہ حکومت کی جانب سے اس دولت کے حصول کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے کہا کہ سابقہ حکومت کے 10 سالہ دور اقتدار میں جو حکومت کا طرز کارکردگی رہا ہے اس کے سبب ریاست کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ان مشکلات کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت کی جانب سے عوامی شکایات کے حصول کے لئے پرجاوانی پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پرجاوانی پروگرام کے تحت تاحال 24ہزار درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں بیشتر درخواستیں اراضیات کے مسائل ‘ ذاتی گھر ‘ راجیو آروگیہ شری کے تحت امدادی رقومات کی اجرائی جیسے مسائل شامل ہیں۔ مسٹر اے ریونت ریڈی نے 3 کروڑ روپئے مالیت کے اعتبار سے خریدی گئی 22 لینڈ کروزر گاڑیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح تلنگانہ کے اثاثوں کے نام پر عوامی دولت کو لوٹا جاتا رہا ہے لیکن موجودہ حکومت عوامی دولت کو نقصان پہنچائے بغیر ریاست میں عوامی مفادات اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے کام کرے گی۔ انہو ںنے بتایا کہ سابق ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ نے بدعنوانیوں کے ذریعہ حاصل کی گئی ایک لاکھ کروڑ کی دولت میں ایک لاکھ روپئے ایک خاتون کو دیئے ہیں اور حکومت مابقی دولت ان سے واپس وصول کرے گی۔ 3