کے ٹی آر کا قد اتنا بڑا نہیں کہ راہول گاندھی پر تنقید کریں۔ سیتا اکا

   

کے سی آر کے اطراف موجود شیطانوں میں کے ٹی آر کے شامل ہونے کا شبہ ۔ ریاستی وزیر کا بیان

حیدرآباد۔24۔مئی ۔(سیاست نیوز) ریاستی وزیر انوسویا سیتا اکانے کارگذار صدر بی آر ایس کے ٹی راما راؤ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں شبہ ہے کہ سابق چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی دختر و ایم ایل سی کے کویتا نے اپنے والد کے آس پاس موجود جن شیاطین کا تذکرہ کیا ان میں سے ایک شیطان کے ٹی آر ہیں۔ سیتا اکا نے کہا کہ کے ٹی آر کا قد اتنا بڑا نہیں ہے کہ وہ راہول گاندھی پر تنقید کریں ۔ انہو ںنے بتایا کہ بی آر ایس داخلی اختلافات کا شکار ہوچکی ہے اور اب کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناکر خفت مٹانے کی کوشش کررہی ہے۔ ریاستی وزیر نے کے ٹی آر کی جانب سے چیف منسٹر اے ریونت ریڈی پر تنقیدوں کو مسترد کیا اور کہا کہ ای ڈی نے جو مقدمہ درج کیا وہ اس وقت درج کیاگیا ہے جب ریونت ریڈی صدر پردیش کانگریس کمیٹی تھے ۔ انہو ں نے استفسار کیا کہ آزادی کی جدوجہد میں شامل صحافتی ادارہ کو عطیہ دینے میں کیا قباحت ہے!انہوں نے نیشنل ہیرالڈ اور ینگ انڈیا کو عطیات کا دفاع کیا اور کہا کہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کے عہدیدار وزیر اعظم مودی کی خوشنودی حاصل کرنے سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے خلاف مقدمات درج کر رہے ہیں۔ سیتا اکا نے بی آر ایس رکن کونسل کے کویتا کے مکتوب پر ہنگامہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کویتا نے اپنے والد کے اطراف موجود جن شیاطین کا تذکرہ کیا ہے ان میں ایک کے ٹی آر ہونے کا شبہ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی کارکردگی سے تلنگانہ عوام مطمئن ہیں اور بی آر ایس ذمہ دار تعمیری اپوزیشن کا کردار فراموش کرچکی ہے اسی لئے کے ٹی آر کو ان معاملات میں اظہار خیال کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے ٹی آر بے بنیاد الزامات کے ذریعہ جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت عوامی مفادات کیلئے کام کر رہی ہے جبکہ بی آ ر ایس نے اپنے اقتدار میں کالیشورم کے نام پر بدعنوانیوں کو فروغ دینے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ان بدعنوانیوں کو منظر عام پر لانے اقدامات کر رہی ہے جو بی آر ایس دور حکومت میں ہوئے ہیں۔ سیتا اکا نے کہا کہ وزیر اعظم کو خوش کرنے کے ٹی آر ای ڈی کی ستائش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نے ملک کے دفاعی معاملا ت میں بھی امریکی صدر کی مداخلت کو قبول کرکے اپنی اہلیت کو ثابت کردیا ہے۔انہو ںنے کے ٹی آر کے الزامات کو محض عوام کی توجہ پارٹی میں کے کویتا کے مکتوب سے پیدا ہلچل سے ہٹانے ڈرامہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس طرح کی ڈرامہ بازیوں سے عوام کی توجہ حاصل نہیں کی جاسکتی اور نہ دروغ گوئی کے ذریعہ کانگریس کو بدنام کیا جاسکتا ہے۔3