30 فیصد کمیشن ثابت کریں :بھٹی وکرامارکا ، ڈپٹی چیف منسٹر معذرت خواہی کریں بی آر ایس کا مطالبہ
حیدرآباد۔/26 مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا اور بی آر ایس رکن کے ٹی راما راؤ کے ریمارکس پر ہنگامہ ہوا اور دونوں پارٹیوں کے ارکان نے معذرت خواہی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کردی۔ مختلف محکمہ جات کے مطالبات زر پر مباحث کے دوران ایک مرحلہ پر مداخلت کرتے ہوئے سابق وزیر کے ٹی راما راؤ نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ حکومت 20 فیصد اور 30 فیصد کمیشن حاصل کررہی ہے اور کنٹراکٹرس کمیشن کے مطالبہ پر سکریٹریٹ میں دھرنا منظم کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ کے ٹی راما راؤ کے اس الزام پر کانگریس ارکان نے سخت احتجاج کیا اور کے ٹی آر سے معذرت خواہی کی مانگ کی۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے کے ٹی آر کے ریمارک پر برہمی کا اظہار کیا اور انہیں چیلنج کیا کہ کمیشن کے حصول کو ثابت کریں یا پھر ایوان اور ریاست کے عوام سے غیر مشروط معذرت خواہی کریں۔ انہوں نے بی آر ایس ارکان سے کہا کہ وہ اظہار خیال کے وقت اپنی زبان پر قابو رکھیں اور اسے بے لگام ہونے نہ دیں۔ بی آر ایس کے ارکان نے بھٹی وکرامارکا کے ریمارک پر سخت احتجاج کیا اور بھٹی وکرامارکا سے معذرت خواہی کی مانگ کی۔ کے ٹی آر نے یہاں تک کہا کہ 30 فیصد کمیشن کے بارے میں خود کانگریس کے ارکان کھلے عام اظہار خیال کررہے ہیں۔ کانگریس اور بی آر ایس ارکان کی ہنگامہ آرائی اور ایک دوسرے سے معذرت خواہی کے مطالبہ کے دوران پیانل اسپیکر نے کے ٹی آر کے ریمارک کو ریکارڈ سے حذف کرنے کا اعلان کیا جس پر بی آر ایس ارکان بھڑک اٹھے اور بھٹی وکرامارکا کے ریمارک کو بھی ریکارڈ سے خارج کرنے کی مانگ کی۔ پیانل اسپیکر نے کہا کہ کے ٹی آر کا ریمارک غیر پارلیمانی ہے لہذا اسے ریکارڈ سے حذف کیا جاتا ہے۔ بی آر ایس ارکان نے کے ٹی آر کو وضاحت کا موقع دینے کا مطالبہ کیا لیکن پیانل اسپیکر نے مائیک دینے سے انکار کیا جس پر بی آر ایس ارکان نعرے لگاتے ہوئے اسپیکر کے پوڈیم تک پہنچ گئے۔ کافی دیر تک ایوان کے وسط میں بی آر ایس ارکان کا احتجاج جاری رہا اور بعد میں بی آر ایس نے بطور احتجاج ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ بی آر ایس کی غلط حکمرانی کے نتیجہ میں کانگریس حکومت پر 40 ہزار کروڑ کے کاموں کے بلز کا بوجھ عائد ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کنٹراکٹرس نے بی آر ایس دور حکومت میں بلز کی اجرائی کیلئے مساعی کی لیکن رقم جاری نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت مرحلہ وار انداز میں بلز جاری کرنے کے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کے ٹی آر پر بے بنیاد الزام عائد کرنے پر تنقید کی اور ایوان سے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا۔ ایوان میں کافی دیر تک بی آر ایس اور کانگریس ارکان کے درمیان نعرہ بازی کا سلسلہ جاری رہا۔ شوروغل اور ہنگامہ آرائی کے نتیجہ میں بی آر ایس کے رکن پی راجیشور ریڈی مطالبات زر پر اپنی تقریر مکمل نہیں کرسکے۔1