گجرات اور گوا میں طویل عرصے کے بعد دوباره کھلیں گے اسکول

   

شیوسینا نے پیر کو گوا میں بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے اسکول انتظامیہ کے والدین سے تحریری رضامندی کا خط لینے کی مخالفت کی۔کووڈ-19 کی وبا کی وجہ سے طویل عرصے سے بند اسکولوں میں کلاسز کا معمول کا کام پیر سے شروع ہوگیا ہے اور مختلف اداروں کی انتظامیہ نے والدین سے رضامندی کا فارم بھرنے کو کہا ہے، جس کے مطابق صحت کی ذمہ داری طلباء وغیرہ کا اپنا ہے۔ شیوسینا کی گوا یونٹ کے صدر جیتیش کامت نے کہا، “کیمپس کے اندر طلباء کی حفاظت اسکول کی ذمہ داری ہے۔والدین سے رضامندی کے فارم پر دستخط کروانا تشویشناک ہےمیرا ماننا ہے کہ ریاست کے محکمہ تعلیم نے ایسا کوئی فارم جاری نہیں کیا ہے۔ اسکول اپنے طور پر ایسا کر رہے ہیں اور انہیں اسے روکنا چاہیے۔گجرات حکومت کی جانب سے کوویڈ 19 کے کم کیسز کے پیش نظر آن لائن کلاسز بند کرنے کے فیصلے کے بعد پیر کو ریاست کے تقریباً تمام اسکول دوبارہ کھل گئے۔ دریں اثناء کافی عرصے بعد اپنے ہم جماعت سے ملاقات کے بعد کئی طلباء نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسکول میں کلاسز میں پڑھنا کمپیوٹر اور موبائل فون پر کلاس لینے سے کہیں بہتر ہے۔