گردش ایام، شب و روز قدرت کی نشانی

   

حیات انسانی کے فانی ہونے کی بھی گواہی، پروفیسر سید راشد نسیم ندوی کا خطاب

حیدرآباد۔ 14 جنوری (راست) اللہ تعالیٰ نے گردشِ ایام اور دن و رات کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیا، یہ دن و رات، ہفتوں اور مہینوں میں ڈھل جاتے ہیں اور پھر مہینے سالوں میں اور سال صدیوں کا پیراہن اپنا لیتا ہے۔ اسی تیز گام زمانے کو اللہ تعالیٰ نے حیاتِ انسانی کے فانی ہونے کا گواہ بھی بنایا اور حیات کائنات کا سربستہ راز بھی اس گذرتے ہوئے زمانے کے شمار اور اس کے حساب کے لئے مختلف اقوام نے متعدد تقویم کی بنیاد ڈالی۔ ان تقویموں اور تواریخ کے شمار کی بنیادیں بھی مختلف رہی۔ رومیوں نے شہنشاہ ہردوس کی تخت نشینی کو معیار قرار دیا، فارسی نسل نے قمری و شمسی حساب سے اپنے سنین کا حساب رکھا۔ مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے تقویم کا آغاز کیا۔ لیکن پچھلی صدی میں یوروپی استعمار نے دنیا بھر میں سامراجی چھاونیاں قائم کیں اور اپنے اقتدار کے ساتھ مغربی تہذیب اور ثقافت کو عام کیا۔ تصور یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ مسیح 25 ڈسمبر کو تولد ہوئے اور ساتویں دن جشن ولادت اسرائیلی رسم و رواج کی بنیاد پر منعقد ہوا۔ اسی دن سے نئے سال کا آغاز مانا گیا جبکہ حیرت انگیز حقیقت یہ ہیکہ مسیحی تاریخ کے ماہرین نے خود اس تصور کو بے بنیاد قرار دیا۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سید راشد نسیم ندوی نے کانفرنس ہال جامع مسجد عالیہ، گن فاؤنڈری میں تاریخ اسلام لکچر کی 1029 ویں نشست کو بعنوان ’’عیسوی تقویم کی تاریخی حقیقت، میں کیا۔ نشست کا آغاز حافظ محمد تنویر عالم کی قرأت کلام پاک سے ہوا۔ مقرر نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ چونکہ لوقا کی انجیل سے وہ قرائن ملتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ بجائے ڈسمبر کے ماہِ جون یا جولائی میں تولد ہوئے۔ حتمی تاریخ کا تعین مشکل تھا۔ جب 6 ویں صدی میں عیسائیت یوروپ تک پہنچ گئی تو Monk Dimysins نامی راہب کو کلینڈر مرتب کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ انہوں نے 526 میں یہ کیلینڈر تیار کیا۔ لیکن محققین و مورخین کے بقول ان سے 6 تا 4 سال کے حساب کی غلطی ہوگئی۔ انہوں نے اس تقویم کو Anno Domina کے نام سے موسوم کیا جس کا مخفف AD بنایا گیا اور جس کا مفہوم ’’خداوند کا سال‘‘ ہے۔ اس غلطی کی اصلاح کے لئے سولہویں صدی میں پوپ گریگوری Gregorian کو ذمہ داری دی گئی جو کسی حد تک درست کرپائے تاہم شمسی سال کبھی کبھی 366 دن کا بھی ہوتا ہے جس کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تاریخ پیدائش کا صحیح پتہ نہ چل سکا۔ اس موہوم اور قیاسی بنیاد پر پوری دنیا جشن مناتی ہے جس کے بے معنی ہونے کے لئے دلائل کافی ہیں۔ آخر میں جناب انعام احمد کی دعا پر محفل کا اختتام عمل میں آیا۔