سرکاری دفاتر کی مسلسل لاپرواہی ۔ 2018 سے بلز کی عدم ادائیگی ۔ بعض دفاتر پر پری پیڈ میٹرس نصب
حیدرآباد 19 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) برقی کمپنیوں کیلئے جی ایچ ایم سی کے حدود میں مختلف اداروں اور دفاتر سے برقی بلز کے بقایہ جات کی وصولی ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے ۔ محتاط اندازوں کے مطابق جی ایچ ایم سی حدود میں کم از کم 6000 کروڑ روپئے برقی بقایہ جات کے طور پر وصول طلب ہیں۔ برقی بلز باقی رہنے والے اداروں میں سرکاری دفاتر ‘ سرکاری ادارے ‘ خانگی کمپنیاں ‘ آئی ٹی صارفین وغیرہ بھی شامل ہیں۔ کہا گیا ہے کہ حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے چھ ہزار کروڑ روپئے میں نصف یعنی تین ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ کے برقی بقایہ جات واجب الادا ہیں۔ حالانکہ بیشتر آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے بروقت برقی کے بقایہ جات ادا کئے جاتے ہیں لیکن سرکاری اداروں اور دفاتر اپنے بقایہ جات ادا کرنے آگے نہیں آ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری اداروں کے برقی بقایہ جات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ یہ محکمہ جات برقی بلز کی ادائیگی کو اکثر یہ کہتے ہوئے موخر کر رہے ہیں جب کبھی حکومت کی جانب سے متعلقہ محکمہ جات کیلئے فنڈز جاری کئے جائیں گے برقی کے بقایہ جات کو ادا کردیا جائیگا ۔ حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کی جانب سے 3,100 کروڑ روپئے تک کے بقایہ جات ہیں اور انہیں ادا نہیں کیا گیا ہے ۔ چونکہ بقایہ جات پر سود بھی عائد ہونے لگا ہے ایسے میں بقایہ جات کی رقم میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ ڈسکامس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ واٹر سپلائی بورڈ کی جانب سے 2018 سے برقی بلز ادا نہیں کئے گئے ہیں اور ان پر سود عائد کیا جا رہا ہے ۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ محکمہ تعلیم اور دوسرے سرکاری محکمہ جات کی جانب سے 500 تا 600 کروڑ روپئے کے برقی بقایہ جات ہیں۔ محکمہ صنعت اور دوسرے بڑے صارفین کی جانب سے عدالتی مقدمات کے سبب اب تک 2,100 کروڑ روپئے کے بلز ادا نہیں کئے گئے ہیں۔ کچھ آئی ٹی صارفین کی جانب سے محکمہ کو جملہ 362 کروڑ روپئے کے بلز باقی ہیں۔ طرفہ تماشہ یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے مختلف طبقات کیلئے جو سبسڈی دی جاتی ہے اس کے بقایہ جات بھی حکومت نے ابھی تک ادا نہیں کئے ہیں۔ جی ایچ ایم سی کے حدود میں سنٹرل سرکل جس کا ہیڈ کوارٹر پرانے شہر میں ہے 103 کروڑ روپئے کے بقایہ جات رکھتا ہے جبکہ راجندر نگر سرکل سے 84 کروڑ روپئے کے بقایہ جات وصول طلب ہیں۔ چونکہ سرکاری محکمہ جات اور دفاتر سے برقی بقایہ جات کی وصولی مشکل ہوتی جا رہی ہے ایسے میں کچھ دفاتر پر پری پیڈ میٹرس لگائے جا رہے ہیں۔ کہا گیا ہے اب تک ریاست میں جملہ 11,000 پری پیڈ برقی میٹرس نصب کئے گئے ہیں اس کے باوجود محکمہ کا مقصد پورا نہیں ہوا ہے اور بلز کا بقایہ برقرار ہے ۔