گریٹر حیدرآباد کی اسٹانڈنگ کمیٹی سے بی جے پی کو باہر رکھنے کا منصوبہ

   

۔15 نشستوں پر ٹی آر ایس اور بی جے پی کی نظریں، ترجیحی ووٹ کی بنیاد پر فیصلہ
حیدرآباد: ٹی آر ایس نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی کو اسٹانڈنگ کمیٹی سے باہر رکھنے کیلئے منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں پر کامیابی کے بعد ٹی آر ایس اسٹانڈنگ کمیٹی میں بی جے پی کی شمولیت کو روکنے کیلئے حلیف جماعت مجلس کے ساتھ حکمت عملی تیار کرسکتی ہے۔ اسٹانڈنگ کمیٹی کے 15 ارکان کے انتخاب کیلئے ترجیحی ووٹ کی بنیاد پر الیکشن کیا جاتا ہے اور دونوں پارٹیاں مل کر تمام نشستوں پر بآسانی قبضہ کرنے کے موقف میں ہیں۔ قواعد کے مطابق 10 کارپوریٹرس اسٹانڈنگ کمیٹی کے ایک رکن کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ اگر 15 سے زائد امیدوار میدان میں ہیں تو ووٹنگ کی جاسکتی ہے۔ ٹی آر ایس کے ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ بی جے پی اپنے ارکان کو اسٹانڈنگ کمیٹی کیلئے نامزد کرسکتی ہے لیکن کونسل میں اسے اکثریت حاصل نہیں، لہذا ٹی آر ایس اور مجلس 100 کارپوریٹرس کے ساتھ اسٹانڈنگ کمیٹی کی تمام نشستوں پر خفیہ رائے دہی کے ذریعہ قبضہ کرسکتے ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اسٹانڈنگ کمیٹی نے تمام جماعتوں کو کونسل میں ان کی تعداد کے اعتبار سے نمائندگی دی جاسکتی ہے ۔ اگر ایکٹ کے مطابق عمل کیا گیا تو ٹی آر ایس کو 6 ، بی جے پی کو 5 اور مجلس کو 4 ارکان حاصل ہوں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ ارکان کا انتخاب ترجیحی بنیاد پر ہوگا۔ جی ایچ ایم سی ایکٹ کے مطابق اسٹانڈنگ کمیٹی کے کم سے کم ارکان کی تعداد 5 اور زیادہ سے زیادہ 15 ہونی چاہئے ۔ اسٹانڈنگ کمیٹی کے ارکان کی میعاد ایک سال ہوتی ہے۔ میئر اسٹانڈنگ کمیٹی کے صدرنشین ہوتے ہیں اور ان کے غیاب میں ڈپٹی میئر کو یہ ذمہ داری نبھانے کا اختیار حاصل ہے۔ عہدیداروں نے نو منتخب ارکان کی حلف برداری اور میئر و ڈپٹی میئر کے الیکشن کے بعد کوآپشن ممبرس اور اسٹانڈنگ کمیٹی ارکان کے انتخاب کا منصوبہ بنایا ہے۔ موجودہ اسٹانڈنگ کمیٹی کی میعاد 10 فروری کو ختم ہورہی ہے ۔ نوڈل آفیسر انتخابات کے سلسلہ میں اعلامیہ جاری کریں گے۔