گزشتہ دو برسوں میں اقلیتی بہبود کیلئے بجٹ کی اجرائی اور خرچ مایوس کن

,

   

جاریہ سال صرف 440 کروڑ خرچ کئے گئے، کئی اہم اسکیمات پر عمل آوری ٹھپ

حیدرآباد: تلنگانہ میں گزشتہ دو برسوں کے دوران حکومت کی جانب سے اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر بجٹ کی اجرائی اور خرچ کی صورتحال مایوس کن رہی۔ گزشتہ سال کے مقابلہ جاریہ مالیاتی سال حکومت کی جانب سے بجٹ کی اجرائی اور خرچ کافی حد تک گھٹ چکا ہے۔ 2019-20 اور 2020-21 کے دوران حکومت نے بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے جملہ 2480 کروڑ مختص کئے تھے جن میں سے 2405 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی لیکن اسکیمات پر 1706 کروڑ خرچ کئے گئے۔ جاریہ سال حکومت نے اسکیمات کیلئے کوئی بجٹ جاری نہیں کیا بلکہ لازمی خدمات اور تنخواہوں کیلئے بجٹ جاری کیا گیا۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق 2019-20 میں 1344 کروڑ کے بجٹ سے 1266 کروڑ خرچ کئے گئے تھے جبکہ 2020-21 ء میں 1136 کروڑ بجٹ مختص کیا گیا تھا جس میں سے 869 کروڑ جاری کئے گئے جبکہ صرف 440 کروڑ کا ہوا ہے۔ جاریہ سال سب سے زیادہ بجٹ اقامتی اسکولوں کیلئے جاری ہوا ہے۔ دونوں نوعیت کی اسکیمات کیلئے اقامتی اسکولوں کو 106 کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ پری میٹرک اورپوسٹ میٹرک اسکالرشپ کے علاوہ فیس باز ادائیگی کے لئے بجٹ کی اجرائی اور خرچ کسی قدر بہتر رہا۔ اسکالرشپ کے لئے 56 کروڑ کے منجملہ 35.76 کروڑ خرچ کئے گئے ۔ فیس باز ادائیگی کیلئے 206 کروڑ الاٹ کئے گئے تھے جس میں سے 155 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی اور 104 خرچ کئے گئے۔ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کیلئے 62 کروڑ مختص کئے گئے تھے جن میں 46 کروڑ جاری کئے گئے ۔ امیدواروں میں 41.72 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کیلئے محض 28 کروڑ مختص کئے گئے اور 15 کروڑ جاری کئے گئے جبکہ 12 کروڑ خرچ ہوئے ہیں۔ شادی مبارک اسکیم کیلئے 142 کروڑ وقف بورڈ کے لئے 26.94 کروڑ خرچ ہوئے ہیں۔ اردو اکیڈیمی کے تحت کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریری کے لئے 57 لاکھ کی اجرائی عمل میں آئی جبکہ ٹریننگ ایمپلائیمنٹ اسکیم پر ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا۔ میناریٹی اسٹڈی سرکل کے تحت مختلف کورسس میں کوچنگ کیلئے 24 لاکھ اور سی ای ڈی ایم پر 82 لاکھ خرچ کئے گئے ۔ حج کمیٹی کیلئے 99 لاکھ روپئے کی اجرائی عمل میں آئی ہے۔ اردو اکیڈیمی کی تنخواہوں کیلئے 53 لاکھ جاری کئے گئے ۔ اقلیتی اداروں میں بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب اسکیمات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ وقف بورڈ میں ائمہ اور مؤذنین کوگزشتہ چار ماہ سے ماہانہ اعزازیہ کی رقم جاری نہیں کی گئی ۔