گلزار حوض ٹوٹ پھوٹ کا شکار، عظمت رفتہ کی بحالی میں حکام ناکام،نئی تعمیر کے چندماہ میںدراڑ پڑ گئی

,

   

(محکمہ آثار قدیمہ تاریخی حوض کے تحفظ میں ناکام )

لاکھوں روپئے کا خرچ لیکن ناقص تعمیرات

حیدرآباد۔/28 جولائی، ( سیاست نیوز) تاریخی عمارتوں اور یادگاروں سے غفلت اور بے اعتنائی دراصل اپنی تاریخ کو بھولنے کے مترادف ہے۔ حیدرآباد میں تاریخی چارمینار کے مشاہدہ کیلئے آنے والے ہزاروں سیاح تاریخی عمارت کے ساتھ قریب میں واقع گلزار حوض کا مشاہدہ کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ نظام دور حکومت میں علاقہ کی خوبصورتی کیلئے چارمینار سے قریب گلزار حوض تعمیر کیا گیا تھا۔ انتہائی خوبصورتی کے ساتھ تعمیر کردہ اس حوض کو انتظامیہ اور حکومتوں کی لاپرواہی نے نقصان پہنچایا۔ طویل عرصہ تک اس تاریخی حوض کو کچرے دان کے طور پر استعمال کیا گیا حالانکہ اس حوض میں ایک خوبصورت فوارہ موجود تھا اور پانی میں مچھلیاں چھوڑی جاتی تھیں۔ گلزار حوض دراصل پرانے شہر کی چار کمانوں کے وسط میں تعمیر کیا گیا اور وہاں ٹھہر کر چاروں کمانوں کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ چار کمانوں کے مرکزی مقام پر موجود گلزار حوض پر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن نے کوئی توجہ نہیں دی اور طویل عرصہ تک نظرانداز کیا جانے والا یہ تاریخی حوض آخرکار اپنی اصلیت کو کھوچکا ہے۔ محکمہ آثار قدیمہ کے ذریعہ قدیم حوض کو منہدم کرتے ہوئے نئے انداز میں حوض کی تعمیر انجام دی گئی جس پر لاکھوں روپئے کا خرچ بھی آیا۔ تاریخی آثار میں اگر ملاوٹ کردی جائے تو پھر ان کی اصلیت باقی نہیں رہتی یہی کچھ گلزار حوض کے ساتھ بھی ہوا۔ نئے حوض کی تاریخی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے تعمیر کرنے کے نام پر جو میٹریل استعمال کیا گیا وہ انتہائی ناقص تھا۔ ناقص تعمیری کاموں کا نتیجہ صرف چند ماہ میں منظرعام پر آگیا اور گلزار حوض ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکا ہے۔ حوض کی تعمیر میں استعمال کئے گئے ٹائیلس جگہ جگہ ٹوٹنے اور جھڑنے لگے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے نام پر مخصوص کنٹراکٹرس کو فائدہ پہنچایا گیا اور تعمیری کام عوام سے مخفی رکھ کر انجام دیئے گئے۔ نئے حوض کے آغاز کے چند ماہ میں گلزار حوض اپنی ابتر صورتحال کی کہانی بیان کررہا ہے۔ چارمینار جانے والے سیاحوں نے گلزار حوض کی ابتر حالت کے بارے میں کئی ویڈیوز سوشیل میڈیا میں وائرل کئے ہیں لیکن حکام کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ حکومت کو فوری اس جانب توجہ مرکوز کرتے ہوئے گلزار حوض کی عظمت رفتہ بحال کرنے کے اقدامات کرنے چاہیئے۔ محکمہ آثار قدیمہ جو تاریخی عمارتوں کی حفاظت اور ان کی مرمت کیلئے قائم کیا گیا ہے لیکن وہ پرانے شہر کی ایک خوبصورت اور تاریخی یادگار کے تحفظ میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ مقامی عوامی نمائندوں اور تاریخی عمارتوں کے تحفظ کی جدوجہد کرنے والے جہد کاروں کو اس جانب توجہ دینی چاہیئے۔1