تانڈور۔ 19ستمبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) گنیش وسرجن کے پیش نظر تانڈور میں پولیس کی جانب سے وسیع تر سکیورٹی انتظامات کیے گئے۔ وقارآباد ضلع ایس پی اسنیہہ مہرانے قدیم تانڈور اور اطراف کے علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے وسرجن کے انتظامات کا جائزہ لیا اور پولیس عہدیداروں کو ضروری ہدایات جاری کیں۔ ایس پی نے قدیم تانڈور شیواجی اُتسو کمیٹی اور درگاہ کمیٹی کے ذمہ داران سے ملاقات کرتے ہوئے گنیش وسرجن پروگرام کو پُرامن انداز میں مکمل کرنے کے لیے تمام طبقات سے تعاون کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ تانڈور ہندو مسلم اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے اور یہاں مختلف مذاہب کے افراد باہمی احترام اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں۔ایس پی نے عوام سے اپیل کی کہ وسرجن جلوس کے دوران پولیس کی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے لیکن ایس پی ضلع وقارآباد کی ہدایات کے باوجود جلوس میں ڈی جے کی زبردست گونج، گنیش وسرجن جلوس کے دوران ڈی جے بجائے جانے کا معاملہ بھی موضوعِ بحث بنا رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ پولیس کی جانب سے جلوس کے دوران ڈی جے نہ بجانے کی ہدایات دی گئی تھیں، تاہم اس کے باوجود جلوس کے ساتھ ڈی جے بجایا گیا۔قابل ذکر بات یہ رہی کہ ڈی جے کی آواز کے باوجود موقع پر موجود پولیس عملہ سختی سے اسے روکنے کے لیے کارروائی کرتا ہوا نظر نہیں آیا۔ اس صورتحال پر مقامی سطح پر یہ سوالات اُٹھا رہے ہیں کہ اگر ڈی جے کے استعمال پر ہدایات موجود تھیں تو ان پر عمل درآمد کیوں نہیں کرایا گیا۔پولیس کی جانب سے گنیش وسرجن کے موقع پر وسیع تر انتظامات کے ساتھ امن و امان برقرار رکھنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ایس پی راجیش مینا، ڈی ایس پی نرسنگ یادیا، ٹاؤن انسپکٹر پرمیشور اور دیگر پولیس عہدیدار موجود تھے۔