گورنر شیوپرتاپ شکلا کو سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار، اظہر الدین کی کابینہ میں برقراری پر الجھن
حیدرآباد۔ 12 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے کابینہ میں وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین کی برقراری کو یقینی بنانے کے لئے ریاستی گورنر سے حکومت کے سفارش کردہ ناموں کی منظوری کی درخواست کی ہے۔ واضح رہے کہ وزیر اقلیتی بہبود محمد اظہر الدین کو 30 اپریل تک اسمبلی یا کونسل میں کسی ایک ادارہ کا رکن منتخب ہونا ضروری ہے۔ کانگریس پارٹی نے گزشتہ سال اکتوبر میں جوبلی ہلز اسمبلی حلقہ کے ضمنی چناؤ کے دوران محمد اظہر الدین کو کابینہ میں شامل کیا تھا۔ دستور کے مطابق اسمبلی اور کونسل کی رکنیت کے بغیر صرف 6 ماہ تک کابینہ میں برقرار رہنے کی گنجائش ہے۔ محمد اظہر الدین کے 6 ماہ 30 اپریل کو مکمل ہو جائیں گے اور اس وقت تک گورنر سے حکومت کے سفارش کردہ ناموں کی منظوری حاصل کرنے کی مساعی شروع کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہیکہ گورنر کے سکریٹری کے ذریعہ حکومت کی درخواست شیوپرتاپ شکلا تک پہنچائی گئی۔ توقع ہے کہ حکومت کے ایک سینئر وزیر عنقریب گورنر سے ملاقات کرتے ہوئے ریاستی کابینہ کی طرف سے گورنر کوٹہ کے تحت سفارش کردہ محمد اظہر الدین اور پروفیسر کودنڈا رام کے ناموں کی منظوری کی درخواست کی جائے گی۔ کابینہ نے اگست 2025 میں دونوں ناموں کی سفارش کی تھی لیکن اس وقت کے گورنر جشنودیو ورما نے سپریم کورٹ میں معاملہ زیر التواء ہونے کے سبب کوئی کارروائی نہیں کی تھی۔ بتایا جاتا ہیکہ موجودہ گورنر شیوپرتاپ شکلا نے بھی عہدیداروں سے سپریم کورٹ کے مقدمہ کی تفصیلات حاصل کرلی ہیں اور انہوں نے واضح کیا کہ قطعی فیصلے تک وہ انتظار کریں گے۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے گورنر کو فیصلے کا اختیار دیا ہے لیکن 11 مارچ کو ذمہ داری سنبھالبے والے شیوپرتاپ شکلا کو فیصلے میں کوئی عجلت نہیں ہے۔ گورنر کے موقف کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے رسمی طور پر نمائندگی میں تاخیر کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر گورنر ناموں کی منظوری سے گریز کریں تو اظہر الدین کو وزارت سے استعفی دلا کر کچھ وقفہ بعد دوبارہ وزیر کا حلف دلانے پر حکومت غور کررہی ہے۔ دستوری قواعد کے اعتبار سے حکومت کے پاس استعفی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ 1؍F