’گٹر جنریشن ‘گنگا رناوت کی بکواس

   

ڈاکٹر مقتدر خان (امریکہ)
ہندوستان میں ایک ایم پی ہیں جو فلم اداکارہ بھی ہیں، میری مراد کنگنا رناوت سے ہے۔ انہوں نے ایک بیان دیا ہے جس میں انہوں نے بہت ہی گندے الفاظ اور گندے خیالات کا اظہار کیا۔ ان طلبہ کے بارے میں جو جنترمنتر پر احتجاج کررہے تھے۔ انہوں نے Gen-Z کو گٹر جنریشن کہا اور پھر ہندو خواتین کے بارے میں کنگنا نے بہت ہی گندے خیالات ظاہر کئے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ہندوتوا پارٹی سے ان کا تعلق ہے اور وہ خود بھی ایک ہندو خاتون ہیں۔ وہ اپنی انسٹاگرام پر پوجا پرارتھنا وغیرہ کی تصاویر پر اَپ لوڈ کرتی رہتی ہیں، لیکن جس طرح سے انہوں نے Gen-Z کی ہندو لڑکیوں کے بارے میں بات کی ہے، وہ بہت ہی حیرت ناک اور صدمہ انگیز ہیں لیکن گنگنا کے خلاف ابھی تک کوئی کیس نہیں کیا گیا ہے۔ یہی باتیں اگر کوئی اور کہہ دیتا تو شاید اب تک کئی ایف آئی آر درج ہوجاتی اور کہا جاتا ہے کہ یہ ملک کی توہین، مذہب کی توہین ہے۔ اس سے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اپوزیشن اور دوسروں کے خلاف کارروائی کے الگ پیمانے اپنائے جاتے ہیں۔ راقم الحروف تین چار مرحلوں میں آپ کو اس ضمن میں بتائے گا۔ پہلے تو میں آپ کو کنگنا رناوت کی جو باتیں ہیں، وہ بتاؤں گا۔ ان کی باتوں سے ان کے کردار کا اندازہ آپ لوگ بھی لگا لیجئے۔ دوسری چیز یعنی کنگنا کے ریمارکس پر Gen-Z کی جانب سے جو جواب آیا اور جس طرح ’انڈیا ٹوڈے‘ اینکرپریتی چوہدری نے بھی شاندار جواب دیا تو اس کے بارے میں بتاؤں گا۔ پریتی چوہدری کا جواب اس لئے بتانا چاہ رہا ہوں کہ ایسی قابل اعتراض باتیں کرنے والے لیڈروں کو ایسا ہی جواب دیا جاتا ہے۔ پھر این ڈی ٹی وی کے ایک کلپ کے بارے میں بھی آپ کو بتاؤں گا جس میں NDTV کے ایک اینکر نے جو ہے تو بڑے مونچھ والے ہیرو لگتے ہیں لیکن انہوں نے جس طرح خاموشی سے آر ایس ایس کی کنگنا رناوت کی باتیں سنی۔ ایک ایسے وقت جبکہ انفارمیشن بہ آسانی دستیاب ہے، نیوز کے ویوز بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ پریتی چوہدری نے جو کچھ کہا میں تو ان کا مداح بن گیا۔ میں آپ کو پہلے یہ بتادوں کہ کنگنا رناوت نے آخر کیا کہا۔ اس سے ہم آگے بڑھیں گے۔ کنگنا رناوت نے اتنی بے کار سی باتیں کی ہیں، ایک تو انہوں نے نوجوانوں کو یعنی Gen-Z کو ’جنریشن گٹر‘ کہا۔ رناوت نے جنتر منتر پر احتجاج میں حصہ لینے والی نوجوان ہندو لڑکیوں کے بارے میں ایسی توہین آمیز باتیں کی پھر اس کے بعد وہ کہتی ہیں کہ میں انہیں ’جنریشن گٹر‘ کہتی ہوں، وہ تعلیم میں اچھی نہیں، وہ اس قدر گھٹیا، بدصورت اور کرپٹ ہیں کہ ہوم میکر بھی نہیں بن سکتی یعنی ان سے کوئی شادی بھی نہیں کرے گا یعنی یہ عجیب بات ہے کہ ہوم میکرس کو خوبصورتی کی ضرورت ہے۔ میں آپ کو ’اکنامک ٹائمس‘ میں شائع ایک مضمون کے بارے میں بتاتا ہوں۔ کنگنا کہتی ہیں کہ نوجوان ہندو لڑکیاں (احتجاجی) گندی نالی کے کیڑے ہیں۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ یہ جو ہندو خواتین ہیں وہ آزادانہ کیریئر بنانے والی خواتین کی تقلید کرنے کی یا نقل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ کنگنا کہتی ہیں کہ ’کوا چلا ، ہنس کی چال‘ جو اس طرح کی آزادانہ فیصلہ لیتی ہیں، اپنے بول بوتے پر ماں باپ کی قیمت پر نہیں۔ دراصل وہ ان لڑکیوں کا مذاق اڑا رہی ہیں۔ احتجاجی لڑکیوں کے بارے میں کنگنا مزید کہتی ہیں کہ وہ بدصورت ہے اور پڑھائی میں بیکار ہیں۔ ایک Gen-Z کے جواب سے میں آپ کو واقف کرواؤں گا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کنگنا رناوت کتنی پڑھی لکھی ہیں۔ یاد رکھیں یہ بچے نیٹ میں پیپر لیک کے بارے میں مجسم احتجاج بنے ہوئے ہیں اور ان لڑکیوں کے بارے میں کنگنا کہہ رہی ہیں کہ وہ تعلیم میں بیکار ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیٹ کی تیاری کررہی لڑکیاں تعلیمی شعبہ میں بیکار ہیں۔ آپ کو کیسے پتہ لگا۔ ان لڑکیوں نے اسٹڈیز کی خاطر تو احتجاج میں حصہ لیا۔ مطلب یہ تو حد ہوگئی ہے وہ نوجوان لڑکیوں کو بدنام کررہی ہیں۔ لڑکیوں کی رہنمائی کرے لیکن انہوں نے مودی کا مذاق اُڑایا۔ دیکھئے کنگنا رناوت کا کوئی سیاسی کارنامہ نہیں ہے۔ انہوں نے نریندر مودی کی چاپلوسی کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ ان کے ساتھ ایرپورٹ پر جو ہوا، وہ ان کے ساتھ پیش آیا واحد بڑا واقعہ تھا۔ بی جے پی کے ٹکٹ پر وہ جیت گئی، ایم پی کی حیثیت سے انہوں نے کونسا بڑا کام کیا یا کارنامہ انجام دیا، میرے خیال میں انہوں نے کوئی بڑا کام نہیں کیا۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ اتنی بدصورتی میں نے کہیں نہیں دیکھی، اُلٹی آرہی تھی۔ کنگنا کو ایک لڑکی نے جواب دیا۔ جو کچھ اس طرح ہے ’ وہ کہتی ہے کہ Gen-Z خواتین کو پڑھنا لکھنا نہیں آتا، کبھی آپ کالج گئیں، اسکول چھوڑ کر آپ چلی گئیں۔ کلاسیس بند کرکے آپ گھومتی پھرتی رہیں اور گھر سے بھاگ گئیں۔ اور آپ کہہ رہی ہیں کہ Gen-Z خواتین کا مطلب ہے ڈرگس استعمال کرنا، کئی کئی پارٹنرس رکھنا، حقیقت میں آپ کیا عجیب بات ہے۔ ڈرگس آپ استعمال کرتی تھیں، ملٹی پل پارٹنرس آپ کے تھے، Gen-Z خواتین کے بارے میں آپ ایسی باتیں کررہی ہیں کیونکہ وہ نیٹ پیپر لیک احتجاج میں تھیں۔ آپ کا مطلب سمجھ میں آرہا ہے اس بات کا۔ نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج میں حصہ لینا مطلب پڑھائی لکھائی سے ان کا کچھ لینا دینا ہے۔ آپ وہاں نہیں تھیں، اس لئے آپ جاہل و گنوار ہیں۔ ویسے بھی اس حکومت کے کسی لیڈر سے خواتین کے احترام کی امید بالکل غلط ہے اور آپ تو خود ایک عورت ہے۔ اس خاتون نے بالکل سچ کہا ہے کہ اس حکومت میں عورت کا کوئی احترام نہیں۔ کنگنا رناوت کو اس خاتون نے اپنے جوابی ویڈیو میں مشورہ دیا کہ میڈم گھر جائے۔ مانا کہ آپ کبھی اسکول یا کالج نہیں گئیں۔ کچھ بنیادی اخلاق تو سیکھ لیجئے ، کچھ تو گھر والوں نے اخلاق و تربیت کی ہوگی۔ جو بھی دل میں آتا ہے کہہ دیتی ہیں۔ پارلیمنٹ میں بیٹھتی ہیں۔ دنیا آپ کو سنتی ہے، آپ کے بیانات تاریخ میں درج ہوجائیں گے۔ آپ کو اس طرح کی گھٹیا باتیں کہتے وقت شرم نہیں آتی۔ آپ Gen-Z کو گٹر جنریشن کہتی ہیں کیونکہ انہوں نے آپ کے وزیر تعلیم پر سوالات اٹھائے کیونکہ وہ گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے۔ ارے کچھ تو لحاظ کرلیجئے۔ یہ لڑکی دیکھئے کہ کس پراعتماد لہجہ میں بات کررہی ہیں، مطلب اس کو ڈر نہیں کہ بی جے پی میرے گھر ای ڈی بھیج دے گی۔ بجرنگ دل کے غنڈے گھر آئیں گے، ماریں گے۔ ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت میں کوئی لا اینڈ آرڈر نہیں ہے۔ باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن غنڈے سڑکوں پر پھر رہے ہیں جس کو چاہے مارے جارہے ہیں۔ افسوس کے عوام کے ایک گوشے کو ملک کی فکر ہی نہیں ہے۔ غنڈے، بچوں کو مار رہے ہیں اور وہ آپ ہی کے بچے ہیں، یہ کس قسم کی قوم پرستی ہے۔