مودی حکومت طوفان کے گھیرے میں … راہول کو روکنا ممکن نہیں
Gen-Z بھی میدان میں … سپریم کورٹ کا امتحان
رشیدالدین
بھارت دیش کے تین غدار، مودی شاہ گیانیش کمار۔ گیانیش کمار کہاں ملیں گے، مودی جی کی گودی میں ۔ ووٹ چور گدی چھوڑ۔ ان نعروں کی گونج ملک بھر میں سنائی دے رہی ہے ۔ یہ محض نعرے نہیں بلکہ عوام کا غصہ ہے۔ ووٹ چوری اور چوری کی سرکار کے خلاف۔ ملک نے جدوجہد آزادی سے لے کر آج تک کئی عوامی تحریکات کو دیکھا لیکن ووٹ چوری کے خلاف امنڈتا یہ طوفان نہیں بلکہ ٹھاٹیں مارتا ہوا سمندر ہے جس کی زد میں آنے والی کوئی بھی طاقت بچ نہیں پائے گی۔ الیکشن کمیشن اور خاص طور پر گیانیش کمار کے خلاف اٹھے اس طوفان نے شدت اختیار کرتے ہوئے مودی حکومت کو گھیرے میں لے لیا ہے ۔ اپوزیشن اور Gen-Z کے اس انقلاب کو شائد ہی کوئی روک پائے ۔ جن نعروں کا ہم نے ذکر کیا ، وہ کانگریس زیر قیادت انڈیا اتحاد کے احتجاج اور کاکروچ جنتا پارٹی کے پلیٹ فارم سے سنائی دے رہے ہیں۔ نریندر مودی ۔ امیت شاہ جو گزشتہ 12 برسوں میں ہر مخالف آواز کو کچلنے کی مہارت حاصل کرچکے ہیں، آج وہ ان نعروں سے کچھ اس قدر خوفزدہ ہیں کہ کانوں میں ان کی گونج نے نیند حرام کردی ہے ۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق گیانیش کمار کو بچانے کی ہر چال ناکام اور ہر پینترا الٹا پڑ رہا ہے ۔ ووٹ چوری کے خلاف Gen-Z اور اپوزیشن کی آوازوں نے الیکشن کمیشن سے آگے بڑھ کر اقتدار کی گلیاروں تک رسائی حاصل کرتے ہوئے ایوانوں کو ہلاکر کردیا ہے۔ نعروں سے خوف کا یہ عالم ہے کہ مودی اور امیت شاہ کو ان کے حق میں نعرے بھی مخالف نعرے سنائی دینے لگے۔ اسی لئے پارٹی دفتر اور قیامگاہوں پر بی جے پی کارکنوں کو نعرہ بازی سے روک دیا گیا تاکہ مودی اور امیت شاہ کی گھبراہٹ میں اضافہ نہ ہو۔ کسی مقام پر بی جے پی کے کچھ سرکردہ قائدین پہنچے اور وہاں اچانک نعرہ بازی شروع ہوگئی۔ یہ نعرے اگرچہ بی جے پی اور قائدین کو زندہ باد کے تھے لیکن گھبرائے ہوئے قائدین نے نعرہ بازی روکنے کی ہدایت دی۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ نعرے مخالف نہیں بلکہ تائید میں ہیں۔ پھر بھی قائدین کا کہنا تھا کہ نعرہ بھلے ہی کچھ ہو کانوں میں تو Gen-Z کے نعرے گونج رہے ہیں۔ ابھی تو نعروں کا یہ اثر ہے اور اگر عوام ایوانوں کے گھیراؤ کیلئے پیشقدمی کریں تو اس وقت کیا ہوگا۔ دہلی کی فضاؤں میں خوف پھیلنے لگا ہے اور خوف کے منڈلاتے سائے یہ پیام دے رہے ہیں کہ ظالم اور ظلم کا خاتمہ قریب ہے۔ یہ خوف مودی حکومت پر حاوی ہوچکا ہے ۔ یہ خوف غیر قانونی طریقہ سے اقتدار حاصل کرنے اور جمہوریت کو تباہ کرنے کا ہے۔ حکومت سے کوئی سوال نہ کریں اور نہ ہی کوئی احتجاج ہو۔ اس کیلئے نئی دہلی کو عملاً قلعہ میں تبدیل کرنے کی تیاری ہے ۔ احتجاج سے نمٹنے کیلئے نیم فوجی دستوں کی اضافی کمپنیوں کو مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ سے طیاروں کے ذریعہ دہلی طلب کرلیا گیا۔ سرحدوں کی حفاظت کیلئے تعینات بارڈر سیکوریٹی فورس (BSF) ، سی آر پی ایف اور چین کے ساتھ سرحد پر تعینات انڈو تبتن فورس کے علاوہ عوامی شعبہ کے اداروں کی حفاظت کرنے والی CISF کو دہلی میں احتجاجیوں سے نمٹنے کیلئے تعینات کیا جارہا ہے ۔ نیم فوجی دستوں کے سائے میں مودی حکومت خود کو ایک قلعہ میں محصور کرلے گی۔ مغربی بنگال میں عوام کو رائے دہی سے روک کر بی جے پی کو کامیاب بنانے والے نیم فوجی دستوں کو جمہوریت بچاؤ کی جدوجہد کرنے والے Gen-Z کے خلاف تعینات کیا جارہا ہے ۔ ایک طرف اپوزیشن اور دوسری طرف Gen-Z اور Gen-Alpha نے میدان میں اترکر آزادی کی دوسری جدوجہد میں تبدیل کردیا ہے۔ مودی حکومت خوش فہمی کا شکار ہے کہ نیم فوجی دستوں کے ذریعہ مخالف آوازوں کو کچل دیا جائے گا۔ انگریزوں نے بھی جیالے مجاہدین آزادی کے خلاف ظلم و بربریت کا راستہ اختیار کیا تھا لیکن جب کوئی تحریک جنون کی شکل اختیار کرلے تو پھر نیم فوجی دستے تو کیا فوج بھی بے اثر ثابت ہوگی۔ ووٹ چوری کے خلاف تحریک سے وابستہ قائدین اور کارکنوں کا جذبہ جنون تک پہنچ جائے تو پھر مودی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوجائے گی۔ ووٹ چوری اور گیانیش کمار نے اپوزیشن کو متحدہ کردیا اور ناانصافیوں کے شکار Gen-Z کو سڑکوں پر اتار دیا ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی عوامی تحریک کا مرکز بن چکا ہے۔ عوام کے غیض و غضب سے بوکھلائی مودی حکومت نے Panic بٹن یعنی گھبراہٹ اور خطرہ کا بٹن دبادیا ہے۔ طیارہ کو جب کوئی خطرہ لاحق ہو تو پائلٹ خطرہ کا بٹن دبا دیتا ہے تاکہ ایر ٹرافک کنٹرول کو اطلاع دے کر مدد حاصل کی جائے۔ Panic بٹن کے ذریعہ صرف ایک سوال پر بحث جاری ہے کہ آخر راہول گاندھی کو کس طرح روکا جائے۔ راہول گاندھی نے سنسد کا راستہ سڑک سے طئے کرنے کی ٹھان لی ہے اور ووٹ چوری کے ثبوتوں نے انہیں سڑک پر آنے کیلئے مجبور کردیا۔ راہول گاندھی ، پرینکا گاندھی اور انڈیا اتحاد کی پارٹیوں کے قائدین چند دن سے مسلسل سڑکوں پر ہیں۔ احتجاج سے نئی دہلی عملاً جام ہوچکی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ کاکروچوں اور راہول گاندھی کو روکنا ممکن ہی نہیں ناممکن ہے۔ احتجاج میں شدت کے بعد سے خفیہ محکمہ جات کے ذریعہ حکومت کو جو رپورٹ حاصل ہوئی ہے، وہ انتہائی ڈراؤنی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمرجنسی بٹن دبادیا گیا۔ راہول گاندھی اور دوسروں کی بار بار گرفتاری سے حالات کے مزید بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق دہلی پولیس نے Gen-Z اور اپوزیشن کے خلاف طاقت کے استعمال سے انکار کردیا ہے۔ پولیس عہدیداروں کو احتجاجیوں کی شکل میں ان کے بچے دکھائی دے رہے ہیں، لہذا حکومت سے تحریری طور پر ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ شائد یہی وجہ ہے کہ نیم فوجی دستوں کو طلب کرلیا گیا۔ ہوسکتا ہے کہ آنے والے دنوں میں فوج کو طلب کیا جائے گا۔
نریندر مودی حکومت آخر گیانیش کمار کو کیوں بچا رہی ہے ؟ یہ سوال اپوزیشن ہی نہیں بلکہ حکومت کی حلیف پارٹیوں کے قائدین بھی کرنے لگے ہیں ۔ ووٹ چوری کے سنگین الزامات پر گیانیش کمار خاموش ہیں اور بی جے پی نے اپنے ترجمانوں کی ٹیم کو ان کی تائید میں میدان میں اتاردیا ہے ۔ دراصل حکومت کو اندیشہ ہے کہ اگر گیانیش کمار استعفیٰ دیں گے تو مغربی بنگال ، بہار ، ہریانہ اور دیگر ریاستوں کے اسمبلی انتخابات پر سوال کھڑے ہوں گے ۔ پنجاب ، یو پی اور گجرات میں بی جے پی کو کسی بھی صورت میں کامیابی حاصل کرنا ہے اور گیانیش کمار ہی اپنے فن کے ذریعہ کامیابی دلاسکتے ہیں۔ Gen-Z نے ملک میں سیاسی اصلاحات کے بجائے سیاسی تبدیلی کا نعرہ لگایا ہے اور اس نعرہ کے تحت مودی حکومت پر خطرہ کے بادل منڈلانے لگیں گے ۔ الیکشن کمشنرس کے تقرر کے طریقہ کار میں تبدیلی اور گیانیش کمار کے یکطرفہ فیصلوں کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ چند ماہ کے دوران الیکشن کمیشن کا بچاؤ کیا لیکن موجودہ حالات میں چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت کے تیور بھی تبدیل دکھائی دے رہے ہیں۔ دراصل عوامی احتجاج کے نتیجہ میں سپریم کورٹ پر ذمہ داری میں اضافہ ہوا ہے اور عدالت پھونک پھونک کر قدم رکھ رہی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کورٹ ووٹ چوری اور الیکشن کمشنرس کے تقررات کے طریقہ کار میں حکومت کی ہرگز تائید نہیں کرے گا۔ ملک میں ایک طرف سرکاری اداروں پر عوام کا بھرہوسہ اٹھنے لگا ہے تو دوسری طرف نوکر شاہی نے کرپشن کے ذریعہ اپنی ساکھ متاثر کی ہے۔ عدلیہ پر بھی سوال اٹھنے لگے ہیں۔ سپریم کورٹ کے برسر خدمت ججس نے کھلے عام الیکشن کمیشن کے فیصلوں کو نشانہ بنایا۔ جسٹس اجل بھویاں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ملک کو دو گروپس میں تقسیم کردیا گیا ۔ ایک گروپ ووٹ کے حق سے محروم تو دوسرا ووٹ دینے کا حق رکھتا ہے ۔ اس قدر سخت ریمارکس سے دوسرے ججس کیلئے حکومت اور گیانیش کمار کے حق میں فیصلہ کرنا آسان نہیں رہے گا۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں ووٹ چوری کا اعتراف کرتے ہوئے 20 ریاستوں میں جہاں ایس آئی آر ختم ہوچکا ہے ، وہاں ناموں کی شمولیت کے لئے خصوصی مہم کا اعلان کیا گیا۔ گزشتہ فہرست کی بنیاد پر بی ایل اوز گھر گھر جاکر ناموں کی جانچ کریں گے اور ڈیلیٹ کئے گئے ناموں کو بحال کیا جائے گا۔ جب نام بحال کرنا ہی تھا تو پھر ایس آئی آر کے نام پر ملک بھر میں 13 کروڑ نام کیوں نکالے گئے۔ عمران پرتاپ گڑھی نے کیا خوب کہا ہے ؎
ہم آتش سوزاں میں بھی حق بات کہیں گے
کندن کی طرح دہر میں تابندہ رہیں گے