’رو س کا امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ معطل‘
ماسکو : روس سلامتی کونسل کے نائب سربراہ دمتری میدویدف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ روس کی شکست کا خواہش مند ہے تو یہ خواہش دنیا کے گلوبل جنگ کی دہلیز پر ہونے کا مفہوم رکھتی ہے۔ ایسی صورت میں روس اپنے دفاع کے لئے ہر طرح کے اسلحے کے استعمال کا حق رکھتا ہے۔میدویدف نے ٹیلی گرام سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ روس کے امریکہ کے ساتھ طے کردہ ،اور بین البراعظمی جوہری بیلسٹک میزائل صلاحیت کو لگام ڈالنے پر مبنی، اسٹریٹجک اسلحے میں تخفیف کے سمجھوتہ’ START’ کو التوا میں ڈالنے کے موضوع پر بات کی۔میدویدف نے کہا ہے کہ امریکہ روس کے خلاف ہر برائی کر رہا ہے۔ امریکہ یوکرین کو اہم مقدار میں اسلحہ دے رہا اور روس کی شکست کے لئے کوششیں کر رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اسٹریٹجک سلامتی ایک الگ موضوع ہے۔ عمومی معنوں میں اس کا امریکہ۔روس تعلقات سے کوئی واسطہ نہیں ہے”۔انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ انتظامیہ کا اختیار کردہ طرزِ عمل صریح غلطی ہے۔ اس غلطی کا سبب برتری اور استثنایت کا احساس ہے۔ دنیا کی تمام معقول قوّتوں کو اس بات کا احساس ہے کہ اگر امریکہ روس کو شکست دینے کی خواہش کرے گا تو دنیا عالمی جنگ کی دہلیز پر آ جائے گی۔اگر امریکہ روس کو شکست ہی دینا چاہتا ہے تو ہمیں اپنے دفاع کی خاطر جوہری اسلحے سمیت ہر طرح کا اسلحہ استعمال کرنے کا حق حاصل ہے”اس فیصلے کا محّرک امریکہ اور دیگر نیٹو ممالک کی طرف سے ہمارے ملک کے خلاف اعلانِ جنگ ہے اور اس فیصلے کی بازگشت دنیا بھر میں اور خاص طور پر امریکہ میں وسیع پیمانے پر سْنائی دے گی”۔میدویدف نے صدر پوتن کے بیان کہ” میدان جنگ میں روس کو شکست دینا ناممکن ہے” کا حوالہ دیا اور کہا ہے کہ “بالکل اسی وجہ سے ہم نے START کو التوا میں ڈالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب امریکہ کے گنے چْنے بے مہار سوچیں کہ انہیں کیا کامیابی ہوئی ہے۔ ہم نیٹو کی دیگر جوہری طاقتوں، فرانس اور برطانیہ، کے ردعمل کا بھی مشاہدہ کریں گے۔ امریکہ اور روس کے درمیان سمجھوتے کے تیاری کے وقت ان کی اسٹریٹجک جوہری طاقت کوشامل نہیں کیا گیا تھا۔ اب انہیں بھی شامل کرنے کا وقت آ گیا ہے”۔روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرین سے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے کو معطل کر دیا۔عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے حملے کے ایک سال مکمل ہونے پر اپنے خطاب میں جنگ کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میدان جنگ میں ہمیں شکست دینا ناممکن ہے۔ یہ جنگ انہوںنے شروع کی تھی لیکن اسے ختم ہم کریں گے۔روسی قانون سازوں سے خطاب میں صدر پوٹن نے یوکرین تنازعہ کو بڑھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ جوہری ہتھیاروں میں کمی کے لیے کیے گئے معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ مغربی قوتوں کے اقدامات نے معاہدے کی معطلی پر مجبور کیا،روسی صدر نے یوکرین جنگ کے بڑھاو، متاثرین کی تعداد میں اضافے اور تنازعہ کو ہوا دینے کا الزام مغربی ممالک پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں کی ایما پر یوکرین نے جنگ کا ماحول پیدا کیا اور روس کی سلامتی کے خلاف گیا۔