نئی دہلی: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو ٹوکیو میں جاپان کے وزیر دفاع یاسوکازو ہمدا کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی اور دو طرفہ دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی امور کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔دونوں وزرائے دفاع نے ہندوستان۔جاپان دفاعی شراکت داری کی اہمیت اور ہند-بحرالکاہل میں آزاد، کھلے اور قواعد پر مبنی نظم کو یقینی بنانے میں اس کے اہم کردار کو تسلیم کیا۔ راجناتھ سنگھ جاپان کے دفاع اور وزرائے خارجہ کے ساتھ ٹو پلس ٹو ڈائیلاگ میں حصہ لینے کیلئے جاپان کے تین روزہ دورے پر ہیں۔وفود کی سطح کی بات چیت کے دوران راجناتھ نے ذکر کیا کہ ہندوستان-جاپان دو طرفہ دفاعی مشقوں کا دائرہ وسیع ہونا دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید گہرا کرنے کا ثبوت ہے ۔ دونوں وزراء نے’دھرما گارجین‘، ’جیمیکس‘اور ’مالابار‘سمیت دو طرفہ اور کثیرالجہتی فوجی مشقیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے گزشتہ مارچ میں مشق ‘ملن’ کے دوران معاہدے کی شقوں پر عمل درآمد اور فوجی ساز و سامان کی فراہمی کا خیرمقدم کیا۔ دونوں وزراء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ لڑاکا جیٹ مشقوں کا جلد آغاز دونوں ممالک کی فضائی افواج کے درمیان زیادہ تعاون اور باہمی آپریشنل مفاہمت کی راہ ہموار کرے گا۔وزیر دفاع نے دفاعی ساز و سامان اور تکنیکی تعاون کے میدان میں شراکت داری کے دائرہ کار کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے جاپانی صنعتوں کو ہندوستان کی دفاعی راہداریوں میں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی۔ اس سال ہندوستان اور جاپان کے درمیان سفارتی تعلقات کے 70 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک مضبوط جمہوریتوں کے طور پر خصوصی اسٹراٹیجک اور عالمی شراکت داری کے لیے کوشاں ہیں۔قبل ازیں راجناتھ نے بدھ کی رات ٹوکیو پہنچنے کے بعد فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانیں قربان کرنے والے جاپانی سیکورٹی اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ دو طرفہ ملاقات سے پہلے راجناتھ کو باضابطہ ’گارڈ آف آنر‘دیا گیا۔