گروپ G32 میں انڈیا کا 8 واں نمبر۔ اسٹیٹ آف انڈیاز ڈیجیٹل اکانومی کی رپورٹ
نئی دہلی: ہندوستان ڈیجیٹل معیشت کے معاملے میں امریکہ اور چین کے بعد دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے اور آنے والے برسوں میں امریکہ اور چین کی اے آئی سبقت کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔یہ دعویٰ آج اسٹیٹ آف انڈیاز ڈیجیٹل اکانومی (ایس آئی ڈی ای) 2025 پر آئی سی آر آئی ای آر۔ پروسس سنٹر فار انٹرنیٹ اینڈ ڈیجیٹل اکانومی کے ذریعہ جاری کردہ ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کا عروج دنیا کے ڈیجیٹلائزیشن نقشے پر گلوبل ساؤتھ کے عروج کی ایک بڑی کہانی کا حصہ ہے ، جس میں چین دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ ڈیجیٹل ملک ہے اور ہندوستان، برازیل، تھائی لینڈ اور نائیجیریا کئی ترقی یافتہ ممالک کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ڈیجیٹل صارفین کی تعداد اور ڈیجیٹل خدمات کی سطح کافی اونچی ہے ، لیکن اوسط ہندوستانی صارف ابھی بھی محدود حد تک ڈیجیٹلائزڈ ہے ۔ جب ملک اور صارف کی سطح کے اسکور کو ملایا جاتا ہے تو، ہندوستان 32 ممالک (G32) کے گروپ میں آٹھویں نمبر پر ہے ، جس میں 17 ترقی یافتہ اور 15ترقی پذیر ممالک شامل ہیں۔آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ امریکہ اور چین اے آئی کی دوڑ میں باقی دنیا سے بہت آگے ہیں جب کہ جنوبی کوریا، سنگاپور اور ہالینڈ ان کے بعد آتے ہیں۔ G32 میں ہندوستان اے آئی تحقیق میں 11 ویں اور اے آئی بنیادی ڈھانچے میں 16 ویں نمبر پر ہے ۔ تاہم، صحیح سرمایہ کاری اور پالیسیوں کے ساتھ، ہندستان امریکہ اور چین کے اے آئی کے غلبے کو چیلنج کرنے کی صلاحیت پیدا کر سکتا ہے ۔اس میں کہا گہا ہے کہ ہندوستان کی بڑی آبادی اسے ڈیجیٹل ترقی کے لئے اسکیل کا فائدہ دیتی ہے ، لیکن تیزی سے ہورہے ڈیجیٹلائزیشن کی وجہ سے سائبر حملوں اور ماحول پر پڑنے والے اثر کا خطرے بھی بڑھ جاتا ہے ۔ ہندوستان کے پاس ان خطرات سے نمٹنے کیلئے اصلاحات کی بڑی گنجائش ہے ۔