ہندوستان میں مذہبی آزادی سے متعلق امریکی رپورٹ مسترد: وزارت خارجہ

   

نئی دہلی :امریکی محکمہ خارجہ نے بین الاقوامی مذہبی آزادی پر اپنی سالانہ رپورٹ گزشتہ دنوں جاری کی، جس پر ہندوستان کی جانب سے سخت اعتراض کیا جا رہا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں مذہبی عدم برداشت میں اضافہ ہوا ہے اور عبادتگاہوں پر حملے بھی زیادہ ہورہے ہیں۔ ہندوستان کی طرف سے اس رپورٹ کو سرے سے خارج کر دیا گیا ہے اور ساتھ ہی سخت لہجے میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ بین الاقوامی تعلقات میں ووٹ بینک کا ایجنڈا نہ چلائے، اور اپنا گھر سنبھالے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی سالانہ رپورٹ جاری کی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ ’’ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، جہاں الگ الگ مذاہب کو ماننے والے لوگ رہتے ہیں۔ وہاں حال کے دنوں میں لوگوں پر اور عبادت گاہوں پر حملے کے معاملوں میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘ رپورٹ میں الگ الگ معاملوں کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ بتانے کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ ہندوستان میں اقلیتوں کو مذہبی آزادی نہیں ملتی ہے۔ خصوصاً مسلمانوں اور عیسائیوں کے کچھ معاملوں کو پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ ہندوستان میں غیر ہندوؤں کو سوشل میڈیا پر ہندو اور ہندوتوا پر تبصرہ کرنے کو لے کر پولیس کے ذریعہ گرفتار کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں الگ الگ سیاسی ہستیوں کے بیانات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔امریکہ کی اس سالانہ رپورٹ پر جوابی حملہ کرتے ہوئے ہندوستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’’ہم اپیل کریں گے کہ جانبدارانہ نظریہ کی بنیاد پر کیے جانے والے ایسے تجزیہ سے بچنا چاہیے۔ یہ افسوسناک ہے کہ بین الاقوامی رشتوں میں ووٹ بینک کی سیاست کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تعصب پر مبنی اور یکطرفہ نظریات کو اس رپورٹ میں شامل نہ کیا جائے۔ ہندوستان میں سبھی مذاہب کے لوگ رہتے ہیں، انھیں پوری مذہبی آزادی دی جاتی ہے۔ ان کے حقوق انسانی کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ امریکہ کے ساتھ بات چیت میں ہم ہمیشہ ہی نسلی تشدد، خاص طبقہ پر حملہ کرنے یا بندوق کلچر کے مسئلہ کو اٹھاتے رہے ہیں۔‘‘