آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آتے ہی حکومت کا فیصلہ
نئی دہلی ۔5؍جولائی ( ایجنسیز )مرکزی حکومت نے مغربی ایشیا میں کشیدگی کے دوران نافذ کیے گئے ایمرجنسی گیس سپلائی ریگولیشن آرڈر کی بیشتر دفعات واپس لے لی ہیں۔ حکومت نے یہ فیصلہ امریکہ۔ایران میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی پھر سے شروع ہونے اور سپلائی کی صورتحال میں بہتری کے پیش نظر لیا۔ پٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے ایک آفیشیل نوٹیفکیشن میں ’نیچرل گیس (سپلائی ریگولیشن) آرڈر، 2026‘ میں تبدیلی کی ہے۔ اس کے تحت ان اہم قوانین کو ہٹا دیا گیا ہے جن کے ذریعہ حکومت ترجیحی صارفین کی فہرست کی بنیاد پر ملک میں پیدا ہونے والی گیس اور درآمد شدہ ایل این جی کی تقسیم کو کنٹرول کرتی تھی۔وزارت نے کہا کہ مغربی ایشیا میں حالات کافی بہتر ہوئے ہیں وہاں جنگ بندی نافذ ہے، بات چیت چل رہی ہے اور آبنائے ہرمز سے سمندری آمد و رفت پھر سے شروع ہو گئی ہے۔ اس اہم سمندری راستے سے شپنگ بحال ہونے کے باعث ہندوستان کو ایندھن اور گیس کی سپلائی کو لے کر تشویش کم ہوئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور اپنی خام تیل کی ضرورت کا تقریباً 88 فیصد اور قدرتی گیس کی کھپت کا تقریباً نصف حصہ درآمد کرتا ہے۔ ملک کی خام تیل کی درآمدات کا تقریباً 40 سے 45 فیصد اور ایل این جی سپلائی کا تقریباً 65 فیصد حصہ مغربی ایشیا سے آتا ہے جس کی وجہ سے آبنائے ہرمز ہندوستان کی توانائی کی حفاظت کے لیے ایک اہم راستہ بن جاتا ہے۔