ہندوستان کے 2014 ء ڈرگ انسپکٹر، کنٹرولر میں صرف 117 مسلمان

   

زندگی کے ہر شعبہ میں تعصب و جانبداری، نئی نسل کیلئے غیرمعمولی صلاحیتوں کا حامل ہونا ضروری
حیدرآباد 15 جنوری (سیاست نیوز) دنیا کے کسی بھی ملک کا اگر آپ جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ وہاں اکثریت کے ساتھ لسانی، مذہبی اقلیتیں بھی رہتی ہیں اور ملک کی ترقی میں اقلیتوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔ تاہم جب اقلیتوں کے ساتھ تعصب و جانبداری برتی جاتی ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ میں ان کے ساتھ ناانصافی پر مبنی رویہ اپنایا جاتا ہے، ان کی حق تلفی کی جاتی ہے تو سمجھئے کہ نہ صرف وہ ملک ترقی کی راہ سے ہٹ جاتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کی بدنامی ہوتی ہے۔ اس کی شبیہ پوری طرح متاثر ہوکر رہ جاتی ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ چند دہوں سے ہمارے جنت نشان ہندوستنان میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ زندگی کے ہر شعبہ میں تعصب و جانبداری، ناانصافی، حق تلفی کاک سلسلہ جاری ہے خاص کر بی جے پی زیراقتدار ریاستوں میں اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔ حالانکہ مسلمانوں کو ملک بھر میں تعلیمی اور ملازمتوں کے شعبہ میں تحفظات فراہم کئے جائیں تو ہندوستان دنیا کے چنندہ ترقی یافتہ اور دولت مند ملکوں کی صف میں شامل ہوجائے گا۔ ہم اگر مسلمانوں سے ناانصافی کی بات کرتے ہیں تو اس کے لئے ثبوت و شواہد بھی پیش کرنا ضروری ہے۔ ممتاز انگریزی صحافی محمد عبدالمنان نے اپنی کتاب Muslim in India (ہندوستان میں مسلمان) میں اِن ناانصافیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ انھوں نے انکشاف کیاکہ ملک ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں میں ڈرگ کنٹرولر اور معائنہ کرنے والی ٹیموں میں صرف اور صرف 117 مسلم عہدہ دار ہیں۔ انھوں نے اس تلخ حقیقت کا اظہار کیاکہ ملک کی 14 ریاستوں کی ڈرگ انسپکشن ٹیموں میں ایک بھی مسلم عہدہ دار شامل نہیں۔ گجرات کی 93 رکنی ٹیم میں ایک مسلم عہدہ دار، کیرالا کی 68 رکنی ٹیم میں 7 مسلم عہدہ دار، ہماری ریاست تلنگانہ کی ڈرگ انسپکشن ٹیم میں جس کے 85 عہدہ دار ہیں صرف 5 مسلم عہدہ دار شامل ہیں۔ لکشادیپ میں صرف ایک ڈرگ انسپکٹر ہے جو غیر مسلم ہے۔ مہاراشٹرا میں ڈرگ کنٹرول اینڈ انسپکشن عہدہ داروں کی تعداد 125 ہے جس میں صرف چار مسلمان ہیں۔ ٹاملناڈو میں ایسے عہدہ داروں کی تعداد 176 ہے اور ان میں 9 مسلم عہدہ دار ہیں۔ مغربی بنگال کے ڈرگ اینڈ کنٹرول انسپکشن ٹیم کے 124 عہدہ داروں میں مسلم عہدیداروں کی تعداد 10 بتائی گئی ہے۔ کتاب میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہندوستان میں ڈرگ کنٹرول اینڈ انسپکشن ٹیموں میں عہدہ داروں کی جملہ تعداد 2014 ہے جس میں 117 مسلم عہدہ دار ہیں جبکہ سنٹرل ڈرگ اسٹانڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (CDSCO) کے 288 عہدہ داروں میں صرف 5 مسلم عہدہ دار شامل ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ آندھراپردیش کے 79 ڈرگ انسپکٹرس اینڈ کنٹرولرس میں صرف 2 مسلمان ہیں۔ آسام میں 37 میں 2، بہار کے 111 میں 11 ، جموں و کشمیر کے جملہ 69 عہدہ داروں میں 44 اور لداخ کے دو میں سے دو مسلم عہدہ دار شامل ہیں۔ راجستھان میں ڈرگ انسپکٹرس / کنٹرولرس کی تعداد 86 ہے اس میں صرف ایک مسلمان ہے۔ یوپی ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے جہاں اس قسم کے 108 عہدہ داروں میں مسلم عہدہ داروں کی تعداد صرف تین ہے۔ کرناٹک کے 87 میں سے 6، دہلی اور چھتیس گڑھ میں ایک ایک مسلم عہدہ دار ہیں جبکہ ان ریاستوں میں ڈرگ انسپکٹروں / کنٹرولرس کی جملہ تعداد بالترتیب 24 اور 94 ہے۔ جھارکھنڈ میں ایسے عہدہ داروں کی 35 رکنی ٹیم میں صرف دو مسلمان ہیں۔ بہرحال مسلمانوں کو اس طرح کے حالات پر مایوس ہونے کے بجائے تعلیمی شعبہ میں غیرمعمولی مظاہرہ کرنا ہوگا، اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانا ہوگا تب ہی ہم اپنی موجودگی کا احساس دلاسکتے ہیں۔